تذکرۃ المہدی — Page 134
تذكرة المحمدي 134 ہمارے مریدوں کو الہام ہوتے ہیں اور جب ان کو کہا گیا کہ اپنا کوئی ایسا مرید پیش کرو جو ہمارے الہاموں کے مقابل پر اپنا الہام پیش کرے تو کوئی اپنا مرید پیش نہ کر سکے۔ہمیں چاہیے تھا کہ مولوی رشید احمد کے الہام سننے کے لئے پوشیدہ ابن صیاد سمجھ کر جاتے ہم مامور ہیں وہ مامور نہیں۔پھر اس پر بہت دیر تک افسوس فرماتے رہے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ منشی ظفر احمد صاحب ساکن کپور تھلہ اور ایک شاگرد یا مرید مولوی رشید احمد گنگوہی میں حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کی وفات وحیات کے متعلق گفتگو ہوئی وہ اس گفتگو میں تو مولوی صاحب کا مرید ناکام رہا کہ حیات مسیح علیہ السلام ثابت کر سکے مگر گفتگو اس پر آٹھری کہ اتنی لمبی عمر کسی انسان کی پہلے ہوئی ہے اور اب ہو سکتی ہے کہ نہیں اس میں بھی وہ لاجواب رہا۔آخر کار اس نے ایک خط مولوی رشید احمد صاحب کو لکھا۔مولوی صاحب نے اس کے جواب میں لکھا کہ ہاں اتنی لمبی عمر یہ تو دو ہزار برس ہی ہوئے زیادہ عمر بھی ہو سکتی ہے دیکھو حضرت آدم علیہ السلام کے وقت سے شیطان اب تک زندہ چلا آتا ہے کتنے ہزار برس ہوئے اس کے جواب میں منشی ظفر احمد صاحب نے فرمایا کہ ذکر تو انسانوں کی عمر کا تھا نہ کہ شیطان کا کیا نعوذ باللہ حضرت مسیح علیہ السلام شیطانوں میں سے تھے جو شیطان کی عمر کی مثال دی۔اور یہ بھی ایک دعوئی ہے مولوی رشید احمد صاحب دعوئی اور دلیل میں فرق نہیں سمجھتے دعوئی اور چیز ہے اور دلیل اور چیز ہے اس پر کیا دلیل ہے کہ وہ ہی شیطان آدم والا اب تک زندہ ہے اور اس کی اتنی بڑی لمبی عمر ہے۔نشی صاحب موصوف کے اس جواب کو سن کر پھر ایک خط مولوی صاحب کو ان کے مرید نے لکھا مولوی صاحب نے یہ جواب دیا کہ تمہارا مقابل مرزائی ہے اس سے کہدو کہ ہم مرزائیوں سے کلام کرنا نہیں چاہتے۔اور تم بھی مت ملو۔یہ حال اور یہ علم اور یہ طرز عمل ہے ان مولویوں کا اگر یہ لوگ یہود صفت نہیں