تذکرۃ المہدی — Page 133
تذكرة المهدي 133 مه اول ہے لیکن چونکہ لوگ یہود خصلت ہو گئے ہیں اس خبیث آدمی کے پیچھے نماز بھی پڑھتے ہیں اور اس سے مرید بھی ہو جاتے ہیں اور جو کہا جاتا ہے تو وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ پیر کی پیری سے کام اس کے فعلوں سے کیا کام ہے یہ امر جائز ہی ہو گا جو انہوں نے کیا ہے الخبيقاتُ لِلْخَبِيثِينَ جیسے پیرویے مرید المدعاء مولوی غلام نبی صاحب نے لود بیاند میں آتے ہی حضرت اقدس علیہ السلام کی مخالفت کی اور شہر میں جابجاد عظ ہونے لگے۔ان ہی دنوں میں ایک مولوی صاحب پنجاب کے رہنے والے گنگوہ سے لودھیانہ میں آئے اور حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔تھے تو مخالف تھے مگر حضرت اقدس علیہ السلام کی بھولی بھالی نورانی شکل دیکھ کر کہنے لگے کہ یہ شخص ایک نور ہے اور واقعی صادق ہے مولوی رشید احمد کی کیا حقیقت ہے کہ آپ کے مقابل ہو سکے نور اور ظلمت مقابل ہوں تو کب ہو سکتے ہیں پھر کہنے لگے کہ مولوی رشید احمد نے اپنے مریدوں اور شاگردوں سے مشورہ کیا کہ آؤ پوشیدہ طور سے مرزا کو دیکھ آئیں آنحضرت ا بھی تو ابن صیاد کو پوشیدہ دیکھنے گئے تجھے حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ ان مولویوں کے علم تو سلب ہو گئے تھے پر عقل بھی جاتی رہی آنحضرت ا مولوی صاحب خود بخود بنے اور ہمیں ابن صیاد بنایا۔کیسی بات بنائی جب ایک شخص محمد مصطفی بن سکتا ہے اور دوسرے کو ابن صیاد اپنی رائے سے بناتا ہے تو کیا خدا تعالٰی قادر خالق حکیم وعلیم کسی اپنے بندہ کو مسیح ابن مریم نہیں بنا سکتا۔اور کیا کسی کو یہود نہیں ٹھہرا سکتا اور ان کو یہ خبر نہیں کہ مامور ہونے کا ہمارا دعومی ہے ہم آنحضرت ﷺ کے مثیل ہیں۔جیسا کہ امام مہدی کو خود آنحضرت ا نے اپنا مثیل فرمایا ہے اور اس امت کے آخری زمانہ کے علماء کو مثیل یہود فرمایا ہمارا حق تھا کہ ہم مولوی رشید احمد کو ابن صیاد سمجھتے کس لئے کہ وہ بھی الہام کے مدعی ہیں جیسا کہ انہوں نے ہمارے الہام سن کر کہا تھا کہ ایسے الہام یا ان سے بڑھ کر