تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 740 of 862

تذکار مہدی — Page 740

تذکار مهدی ) حق مہر ادا کرنا چاہئے 740 روایات سید نا محمود حکیم فضل دین صاحب جو ہمارے سلسلہ میں سابقون الاولون میں سے ہوئے ہیں۔ان کی دو بیویاں تھیں۔ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔مہر شرعی حکم ہے اور ضرور عورتوں کو دینا چاہئے۔اس پر حکیم صاحب نے کہا میری بیویوں نے مجھے معاف کر دیا ہوا ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا۔کیا آپ نے ان کے ہاتھ میں رکھ کر معاف کرایا تھا۔کہنے لگے نہیں حضور یونہی کہا تھا اور انہوں نے معاف کر دیا۔حضرت صاحب نے فرمایا پہلے آپ ان کی جھولی میں ڈالیں پھر اس سے معاف کرائیں (یہ بھی ادنی درجہ ہے اصل بات یہی ہے کہ مال عورت کے پاس کم از کم ایک سال رہنا چاہیئے اور پھر اس عرصہ کے بعد اگر وہ معاف کرے تو درست ہے) ان کی بیویوں کا مہر پانچ پانچ سو روپیہ تھا حکیم صاحب نے کہیں سے قرض لے کر پانچ پانچ سورو پید ان کو دے دیا اور کہنے لگے تمہیں یاد ہے تم نے اپنا مہر مجھے معاف کیا ہوا ہے۔سواب مجھے یہ واپس دیدو۔اس پر انہوں نے کہا اس وقت ہمیں کیا معلوم تھا کہ آپ نے دے دینا ہے اس وجہ سے کہ دیا تھا کہ معاف کیا اب ہم نہیں دیں گی۔حکیم صاحب نے آ کر یہ واقعہ حضرت صاحب کو سنایا کہ میں نے اس خیال سے کہ روپیہ مجھے واپس مل جائے گا ایک ہزار روپیہ قرض لے کر مہر دیا تھا مگر روپیہ لے کر انہوں نے معاف کرنے سے انکار کر دیا۔حضرت صاحب یہ سن کر بہت ہنسے اور فرمانے لگے درست بات یہی ہے کہ پہلے عورت کو مہر ادا کیا جائے اور کچھ عرصہ کے بعد اگر وہ معاف کرنا چاہے تو کر دیے ورنہ دیئے بغیر معاف کرانے کی صورت میں تو مفت کرم داشتن والی بات ہوتی ہے۔عورت سمجھتی ہے نہ انہوں نے مہر دیا اور نہ دیں گے چلو یہ کہتے جو ہیں معاف ہی کر دو۔مفت کا احسان ہی ہے نا۔تو جب عورت کو مہر مل جائے پھر اگر وہ خوشی سے دے تو درست ہے ورنہ دس لاکھ روپیہ بھی اگر اس کا مہر ہو۔مگر اس کو ملا نہیں تو وہ دے دے گی کیونکہ وہ جانتی ہے کہ میں نے جیب سے نکال کے تو کچھ دینا نہیں صرف زبانی جمع خرچ ہے۔اس میں کیا حرج ہے۔پس عورتوں سے معاف کرانے سے پہلے ان کو مہر دیا جانا ضروری ہے اور اگر یہ مہر ایسے وقت میں دیا جاتا ہے۔جب ان کو اپنی ضروریات کی خبر نہیں یا جب کہ والدین ان سے لینا چاہتے ہیں۔تو یہ نا جائز ہے اور بردہ فروشی ہے جو کسی طرح درست نہیں ہو سکتی۔اگر بردہ فروشی کی صورت نہ بھی ہو تو بھی ناجائز ہے کہ ایسا فعل کیا جائے جس سے عورت کو نقصان پہنچے ایسا سودا دھوکہ ہے ناجائز ہے۔( خطبات محمود جلد 9 صفحہ 217)