تذکار مہدی — Page 732
تذکار مهدی ) آمین بالجبر و رفع یدین 732 روایات سید نا محمود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی ان جھگڑوں کو ایسا مٹایا ہے کہ اب کسی احمدی کے دل میں خیال بھی نہیں آتا کہ آمین بالجبر کہنی چاہئے یا آمین پالتستر ، ہاتھ اوپر باندھنے چاہئیں یا نیچے ، رفع یدین کرنا چاہئے یا نہیں کرنا چاہئے۔آپ نے ایک اصول لوگوں کے سامنے رکھ دیا اور فرمایا کہ یہ بھی ٹھیک ہے اور وہ بھی ٹھیک ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ایک دفعہ کسی نے ان مسائل کے بارہ میں پوچھا تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے انبیاء حکمت سے کلام کیا کرتے ہیں۔کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی طبائع میں جوش ہوتا ہے۔ان کا جوش جب تک نکلتا نہ رہے ان میں استقلال پیدا نہیں ہو سکتا اور کئی لوگ خاموش طبیعت ہوتے ہیں وہ اگر اظہار جذ بات کرنے لگ جائیں تو ان کا جوش مدھم پڑ جاتا ہے۔اس لئے دونوں قسم کی طبائع کو مد نظر رکھ کر رسول کریم ﷺ نے دو مختلف احکام دے دیئے۔وہ لوگ جو اپنی طبیعت میں جوش رکھتے ہیں وہ آمین بالجبر کہہ لیا کریں اور جو خاموش طبیعت ہیں ان کے لئے شریعت نے دل میں ہی آمین کہہ لینے کا دروازہ کھول دیا۔اسی طرح بعض لوگ حرکات سے اظہار عقیدت میں زیادہ لذت محسوس کرتے ہیں ان کے لئے شریعت نے رفع یدین کا حکم رکھ دیا مگر بعض طبائع ایسی ہوتی ہیں جنہیں حرکات کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ سکون کی ضرورت ہوتی ہے ان کے لئے شریعت نے رفع یدین کی صورت کو اڑا دیا۔اسی طرح ہاتھ باندھنا ہے کوئی شخص سپاہیانہ طبیعت رکھنے والا ہوتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ہاتھ اونچے باندھے۔اس کے لئے شریعت نے نماز میں ہاتھ اونچے باندھنے کا مسئلہ رکھ دیا اور کوئی ایسا ہوتا ہے جو بڑھا اور بیمار ہوتا ہے اس کے ہاتھ اوپر اٹھتے ہی نہیں اور خود بخود نیچے ڈھلک جاتے ہیں ایسے لوگوں کے لئے شریعت نے یہ آسانی رکھ دی کہ وہ نیچے ہاتھ باندھ لیا کریں۔غرض رسول کریم نے دونوں طبائع کا خیال رکھ لیا اور ہر ایک کے حسب حال حکم دے دیا۔مجھے ایک دفعہ ان معنوں کا بڑا لطف آیا۔میں بیمار تھا اور نماز پڑھ رہا تھا کہ یکدم مجھے محسوس ہوا کہ ضعف کی وجہ سے میں نے ہاتھ نیچے باندھے ہوئے ہیں۔اُس وقت مجھے خیال آیا کہ شریعت کی یہ اجازت دراصل اسی لئے ہے کہ ہر طبیعت کا آدمی فائدہ اٹھا سکے۔ایک بیمار آدمی جو ہاتھ اوپر باندھ ہی نہیں سکتا اس سے شریعت یہ کس طرح مطالبہ کر سکتی ہے کہ وہ اپنے ہاتھ ضرور او پر باندھے۔پس بیمار اور کمزور یا سکون رکھنے والی طبیعت کے انسان