تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 698 of 862

تذکار مہدی — Page 698

تذکار مهدی ) 698 روایات سید نا محمود پہنچتا ہے۔ان میں بھی روحانی صفائی نہیں ہوتی۔اس پر انہوں نے سنایا کہ یہ بات بالکل درست ہے۔ایک شخص تھا جو کہتا تھا کہ میں نے سب درجے طے کر لیتے ہیں مگر باوجود اس کے لوگوں سے غلہ اور دانے مانگتا پھرتا تھا میں اس کی نسبت یہ خیال کرتا تھا کہ جب یہ اس مقام پر پہنچا ہوا ہے تو پھر کیوں لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرتا پھرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک شخص کی نسبت فرماتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو خاص درجہ تک پہنچا ہوا سمجھتا تھا۔مگر ایک دفعہ ایک مرید کے ہاں گیا اور جا کر کہا۔لاؤ میرا ٹیکس (یعنی نذرانہ ) قحط کا موسم تھا۔مرید نے کہا کچھ ہے نہیں۔معاف کیجئے۔پیر صاحب بہت دیر تک لڑتے جھگڑتے رہے اور آخر کوئی چیز بکوائی اور روپیہ لے کر جان چھوڑی۔تو اس قسم کی کمزوریاں اور گند ان لوگوں میں دیکھے جاتے ہیں جو بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔گورنمنٹ کے شبہات کا ازالہ ذکر الہی ، انوار العلوم جلد 3 صفحہ 495-494) حضرت مسیح موعود علیہ السلام گورداسپور کے ہی ایک اعلیٰ افسر کا ذکر فرمایا کرتے تھے۔وہ ای۔اے۔سی تھا اور وہابی عقیدہ کا تھا۔ان ایام میں وہابیوں کے متعلق گورنمنٹ کو کچھ شبہات تھے ان ڈپٹی صاحب کے متعلق کسی نے ڈپٹی کمشنر سے جا کر رپورٹ کر دی کہ فلاں شخص وہابی ہے اس پر ڈپٹی کمشنر نے ان کو بلا کر پوچھا مجھے رپورٹ پہنچی ہے کہ آپ وہابی ہیں۔میں تو آپ کے متعلق ایسا خیال نہیں کرتا۔اس پر انہوں نے کہا یہ بالکل جھوٹ ہے میں ہرگز وہابی نہیں ہوں۔ے متعلق آپ کے پاس کسی نے غلط رپورٹ کی ہے اس وقت کے وہابیوں اور دوسرے لوگوں میں بڑا امتیاز یہ تھا کہ وہابی نچینیوں وغیرہ کے نچوانے کو جائز نہ سمجھتے تھے۔ان ڈپٹی صاحب نے ڈپٹی کمشنر کے پاس سے واپس آکر بڑی دعوت کی اور کچنیاں نچوائیں تا ڈپٹی کمشنر اور لوگوں کو یقین ہو جائے کہ وہ وہابی نہیں ہیں۔پس جب تعلیم یافتہ لوگ اپنے افسروں کو خوش کرنے کے لئے اپنے عقائد تک کو چھوڑ بیٹھتے ہیں تو جو لوگ غیر تعلیم یافتہ ہوں ان پر اپنے افسروں اور حکاموں کا اور بھی زیادہ اثر اور رعب ہو گا۔لیکن مسلمان ان جھوٹی رپورٹوں پر جو عیسائی مشنریوں کی طرف سے اخبارات میں شائع ہوتی رہتی ہیں خوشیاں مناتے ہیں کہ اسلام خود بخود افریقہ اور دوسرے ممالک میں ترقی کر رہا ہے۔حالانکہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ہندوستان میں تو