تذکار مہدی — Page 697
تذکار مهدی ) 697 روایات سید نا محمود جب اُس کے مقابل پر آجاتا تو کہتا دو آنے ہی دے دے، جب اس کے پاس سے گزر کر دو قدم آگے چلا جاتا تو کہتا ایک آنہ ہی سہی ، جب کچھ اور آگے چلا جاتا تو کہتا ایک پیسہ ہی دیدے، جب کچھ اور آگے چلا جاتا ہے تو کہتا دھیلا ہی سہی، جب جانے والا اُس موڑ کے قریب پہنچتا جہاں سے مسجد اقصیٰ کی طرف مڑتے ہیں تو کہتا پکوڑا ہی دیدے، جب دیکھتا کہ آخری نکڑ پر پہنچ گیا ہے تو کہتا مرچ ہی دے دے۔وہ روپیہ سے شروع کرتا اور مرچ پر ختم کرتا۔اسی طرح کام کرنے والوں کو بھی یہی سمجھنا چاہئے کہ کچھ نہ کچھ تو ہمارے ہاتھ آ جائے۔اگر پہلی دفعہ سو میں سے ایک کی طرف توجہ کرے گا تو اگلی دفعہ دو ہو جائیں گے اس سے اگلی دفعہ چار ہو جائیں گے اور اس طرح آہستہ آہستہ بڑھتے چلے جائیں گے پس کام کرو اور پھر نتیجہ دیکھو۔جب دنیوی کام بے نتیجہ نہیں ہوتے تو کس طرح سمجھ لیا جائے کہ اخلاقی اور روحانی کام بغیر نتیجہ کے ہو سکتے ہیں لیکن جن کے من حرامی ہیں وہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم تو کام کرتے ہیں لیکن نتیجہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔نتیجہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے کہنے سے اُن کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم نے تو اپنی طرف سے پوری محنت کی تھی لیکن اللہ تعالیٰ ہم سے دشمنی نکال رہا ہے۔یہ کہنا کس قدر حماقت اور بیوقوفی کی بات ہے۔گویا اپنی کمزوریوں اور خامیوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ جو کام ہم کرتے ہیں اُس کا کوئی نہ کوئی نتیجہ مرتب ہوتا ہے۔لیکن اچھے یا بُرے نتیجہ کا دارو مدار ہمارے اپنے کام پر ہوتا ہے۔کسی شخص نے 1/10 حصہ کسی کام کے لئے محنت کی تو قانون قدرت یہی ہے کہ اُس کا 1/10 نتیجہ نکلے۔اب اس کے 1/10 حصہ نکلنے کے یہ معنی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے قانون قدرت کی وجہ سے 1/10 حصہ نتیجہ نکلا ور نہ اُس نے محنت تو زیادہ کی تھی۔قانون قدرت کسی محنت کو ضائع نہیں کرتا لیکن شرارتی نفس یہ کہتا ہے کہ میں نے تو اپنا فرض ادا کر دیا تھا لیکن اللہ میاں اپنا فرض ادا کرنا بھول گیا اس سے بڑا کفر اور کیا ہوسکتا ہے۔پس جہاں تک محنت اور کوشش کا سوال ہے نتائج ہمارے ہی اختیار میں ہیں۔اگر نتیجہ اچھا نہیں نکلتا تو سمجھ لو کہ ہمارے کام میں کوئی غلطی رہ گئی ہے۔کوشش کرنی چاہئے کہ ہر کام کے نتائج کسی معین صورت میں ہمارے سامنے آ سکیں۔( مجلس خدام الاحمدیہ کا تفصیلی پروگرام، انوار العلوم جلد 18 صفحہ 201 202) لالچی پیر کا قصہ ایسے ذکروں سے روحانی صفائی نہیں ہوتی بلکہ وہ جو کہتے ہیں کہ ہمارا ذکر عرش تک