تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 651 of 862

تذکار مہدی — Page 651

تذکار مهدی ) ا 651 روایات سید نا محمودی مجھے مارنے لگ جاتے یعنی دبانے کو اُس نے مارنا قرار دیا اس طرح ایک ایک کر کے اُس نے سارے انعامات گنانے شروع کئے ماں نے یہ سنا تو چیچنیں مار کر رونے لگ گئی اور کہنے لگی ہے بہت تجھ پہ یہ یہ دکھ ، یعنی اتنی چھوٹی سی جان اور یہ یہ مصیبتیں۔یہی حال بعض واقفین کا ہے کہ جماعتیں ان کو گلے لپٹاتی ہیں سینہ سے لگاتی ہیں اور کہتی ہیں ” ہے پت تجھ پہ یہ یہ دکھا“۔بہر حال ہمیں واقف چاہئیں مگر بُزدل اور پاگل واقف نہیں بلکہ وہ ہر قسم کے شدائد کو خوشی کے ساتھ برداشت کرنے کے لئے تیار ہوں۔میں جہاں واقفین میں سے اس حصہ کی مذمت کرتا ہوں وہاں میں دوسرے حصہ کی تعریف کئے بغیر بھی نہیں رہ سکتا۔خدا تعالیٰ کے فضل سے نوجوانوں میں ایسے واقفین زندگی بھی ہیں جنہیں ہر قسم کے خطرات میں ہم نے ڈالا مگر اُنہوں نے ذرا بھی پرواہ نہیں کی، وہ پوری مضبوطی کے ساتھ ثابت قدم رہے اور انہوں نے دین کی خدمت کے لئے کسی قسم کی قربانی پیش کرنے سے دریغ نہیں کیا۔تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد، انوار العلوم جلد 18 صفحہ 288 تا 290 ) اندھے کی کہاوت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ کوئی اندھا تھا۔جو رات کے وقت کسی دوسرے سے باتیں کر رہا تھا ایک اور شخص کی نیند خراب ہو رہی تھی۔وہ کہنے لگا حافظ جی سو جاؤ۔حافظ صاحب کہنے لگے۔ہمارا سونا کیا ہے۔چپ ہی ہو جاتا ہے۔مطلب یہ کہ سونا آنکھیں بند کرنے اور خاموش ہو جانے کا نام ہوتا ہے۔میری آنکھیں تو پہلے ہی بند ہیں۔اب خاموش ہی ہو جانا ہے اور کیا ہے۔تو مومن کے لئے یہ حالات تکلیف کا موجب نہیں ہو سکتے۔کیونکہ وہ کہتا ہے میں تو پہلے ہی ان حالات کا عادی ہوں۔جیسے مومن کو دنیا مارنا چاہتی ہے۔تو وہ کہتا ہے مجھے مار کر کیا لو گے۔میں تو پہلے ہی خدا کے لئے مرا ہوا ہوں۔دنیا موت سے گھبراتی ہے۔مگر ایک مومن کو جب دنیا مارنا چاہتی ہے۔تو وہ کچھ بھی نہیں گھبراتا۔اور کہتا ہے۔میں تو اسی دن مر گیا تھا۔جس دن میں نے اسلام قبول کیا تھا۔فرق صرف یہ ہے کہ آگے میں چلتا پھرتا مردہ تھا اور اب تم مجھے زمین کے نیچے دفن کر دو گے۔میرے لئے کوئی زیادہ فرق پیدا نہیں ہوگا۔پس اگر لوگ اسلام کے احکام کے ماتحت اپنی زندگی بسر کرنے کی کوششیں کریں تو وہ یقینا اس قسم کے حالات کے مقابلہ کے لئے پہلے سے تیار رہیں۔(الفضل 23 رمئی 1943 ء جلد 31 نمبر 121 صفحہ 6)