تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 644 of 862

تذکار مہدی — Page 644

تذکار مهدی ) 644 روایات سید نامحمودی مشابہت ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے مشابہت ہے۔تمہیں خالی ایسا اعتقاد صحابیت کے مقام تک نہیں پہنچا سکتا۔صحابہ تم تبھی بنو گے جب تم اپنی قوت عملیہ سے کام لو گے۔(خطبات محمود جلد 25 صفحہ 118 تا121) قصہ ریچھ سے دوستی کا ہماری جماعت کا فرض ہے کہ اخلاق کو دنیا میں قائم کرے اس لئے اس حالت کو تبدیل کرنے کی کوشش کرنا ہمارا فرض ہے ممکن ہے کہ بعض لوگ ایسے بھی ہوں جو کہہ دیں کہ یہ لوگ اپنے ملک کی خیر خواہی کر رہے ہیں ہمیں انہیں برا کہنے کی کیا ضرورت ہے مگر یہ خیر خواہی ویسی ہی ہے جیسے ایک قصہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سنایا کرتے تھے کہ کسی شخص کی ریچھ کے ساتھ دوستی تھی اور جس طرح لوگ کرتے اور دوسرے جانوروں کو سدھا لیتے ہیں اُس نے اِسے سدھایا ہو ا تھا۔اس شخص کی ماں سورہی تھی اور کچھ بیٹھا اس کی لکھیاں اڑا رہا تھا ایک مکھی بار بار آ کر بیٹھتی تھی جسے وہ بار بار اُڑانے سے تنگ آ گیا آخر اس نے ایک پتھر اٹھا کر مارا جس سے ماں بھی مر گئی۔پس یہ خیر خواہی بھی اس ریچھ کی خیر خواہی سے مشابہ ہے۔اگر حکومت کے حصول کے لئے ضمیر کو تباہ کر لیا جائے تو آئندہ نسل چوروں، ڈاکوؤں اور فریبیوں کی پیدا ہوگی۔(خطبات محمود جلد نمبر 12 صفحہ 548) پرانی حکایتیں سبق حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہیں دوستی کے معنی یہ ہیں کہ ایک انسان دوسرے دوست کے کام آئے لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ اس کی عارضی تکلیف کو دائمی تکلیف پر مقدم کر دیا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ ایک شخص کا ریچھ سے دوستانہ تھا۔اس نے اسے پالا تھا یا کسی مصیبت کے وقت اس پر احسان کیا تھا۔اس وجہ سے وہ اس کے پاس بیٹھا کرتا تھا۔یہ گویا ایک حکایت ہے جو حقیقت بیان کرنے کی غرض سے بنائی گئی ہے۔اگر چہ ایسا بھی ہو جاتا ہے کہ آدمی ریچھ وغیرہ جانوروں کو پال کر اپنے ساتھ ہلا لیتا ہے۔مگر جب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کوئی حکایت روایت کرتا ہوں تو اس کے یہی معنی ہوتے ہیں کہ یہ حقیقت بیان کرنے کی غرض سے ایک قصہ ہے یہ میں اس لئے کہ رہا ہوں کہ تا دشمن یہ اعتراض نہ کرے کہ یہ ایسے بے وقوف لوگ ہیں کہ سمجھتے ہیں ریچھ انسانوں کے پاس آ کر بیٹھتے ہیں۔یہ پرانی حکایتیں سبق حاصل