تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 633 of 862

تذکار مہدی — Page 633

تذکار مهدی ) 633 روایات سید نا محمود کہ میں اپنا کام خدا پر چھوڑتا ہوں وہ جھوٹا ہے وہ خدا سے تمسخر کرتا ہے اور ہر وہ شخص جو سامانوں سے کام لیتا ہے اور کہتا ہے کہ اب فلاں کام میں ہی کروں گا وہ بھی جھوٹا ہے کیونکہ وہ اپنے کاموں میں خدا تعالیٰ کا دخل تسلیم نہیں کرتا۔کام آسان ہوں یا مشکل آخر اُن کی کنجی خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک بات میں نے بار ہاسنی ہے۔آپ ترکیہ کے سلطان عبدالحمید خان کا جو معزول ہو گئے تھے ذکر کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے کہ سلطان عبد الحمید خان کی ایک بات مجھے بڑی ہی پسند ہے۔جب یونان سے جنگ کا سوال اُٹھا تو وزراء نے بہت سے عذرات پیش کر دیئے۔دراصل سلطان عبدالحمید خان کا منشاء تھا کہ جنگ ہو مگر وزراء کا منشاء نہیں تھا اس لئے انہوں نے بہت سے عذرات پیش کئے۔آخر انہوں نے کہا۔جنگ کے لئے یہ چیز بھی تیار ہے اور وہ چیز بھی تیار ہے لیکن کسی اہم چیز کا ذکر کر کے کہہ دیا کہ فلاں امر کا انتظام نہیں ہے۔مثلاً یوں سمجھ لو کہ انہوں نے کہا ( اور غالباً یہی کہا ہوگا ) کہ تمام یورپین طاقتیں اس وقت اس بات پر متحد ہیں کہ یونان کی امداد کریں اور اس کا ہمارے پاس کوئی علاج نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ جب وزراء نے اپنا مشورہ پیش کیا اور مشکلات بتائیں اور کہا کہ فلاں چیز کا انتظام نہیں تو سلطان عبدالحمید نے جواب دیا کہ کوئی خانہ تو خدا کیلئے بھی چھوڑنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سلطان عبدالحمید کے اس فقرہ سے بہت ہی لطف اٹھاتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ مجھے اس کی یہ بات بہت ہی پسند ہے۔تو مومن کیلئے اپنی کوششوں میں سے ایک خانہ خدا تعالیٰ کے لئے چھوڑ نا ضروری ہوتا ہے۔در حقیقت کچی بات یہ ہے کہ مومن کبھی بھی ایسے مقام پر نہیں پہنچتا بلکہ دراصل کوئی شخص بھی ایسے مقام پر نہیں پہنچتا جب وہ کہہ سکے کہ اب کوئی رستہ کمزوری کا باقی نہیں رہا اور اگر کوئی انسان کہے کہ میں اپنا کام ایسا مکمل کرلوں کہ اس میں کوئی رخنہ اور سوراخ باقی نہ رہے تو یہ حماقت ہوگی۔مگر اُسی طرح یہ بھی حماقت ہے کہ انسان اسباب کو بالکل نظر انداز کر دے۔اس وقت یوروپین قومیں پہلی حماقت میں مبتلاء ہیں اور مسلمان دوسری حماقت میں۔(تفسیر کبیر جلد ششم صفحہ 542-541) مومن کو ایمان کا نمونہ دکھانا چاہئے حضرت اقدس علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ جب ترکوں نے بغداد پر حملہ کیا تو اٹھارہ لاکھ آدمی انہوں نے قتل کئے اور ایسی تباہی مچائی جس کا کوئی ٹھکانہ نہیں۔پھر فرماتے تھے کہ ایک