تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 599 of 862

تذکار مہدی — Page 599

تذکار مهدی ) کارمهدی 599 روایات سید نا محمود اتنے دلائل کے بعد بھی مرزا صاحب کو سچا سمجھا جا سکتا ہے۔میں نے کہا۔میں نے تو مرزا صاحب کا مونہ دیکھا ہوا ہے۔اُن کا مونہہ دیکھنے کے بعد اگر مولوی ثناء اللہ صاحب دو سال بھی میرے سامنے تقریر کرتے رہیں تب بھی اُن کی تقریر کا مجھ پر کوئی اثر نہیں ہوسکتا اور میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ جھوٹے کا مونہہ تھا۔بے شک مجھے اُن کے اعتراضات کے جواب میں کوئی بات نہ آئے میں تو یہی کہوں گا کہ حضرت مرزا صاحب بچے ہیں۔غرض حکمت کا معلوم ہونا ایک کامل مؤمن کے لئے ضروری نہیں ہوتا کیونکہ اُس کا ایمان عقل کی بناء پر نہیں ہوتا بلکہ مشاہدہ پر مبنی ہوتا ہے۔اس لئے اُسے احکام کی حکمت سمجھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ہاں جس کا ایمان صرف دلائل کی حد تک ہوا سے حکمت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔غرض ایمان کامل مشاہدہ کی بنا پر ہوتا ہے اور ایمان ناقص حکمت کی بنا پر کامل الایمان لوگوں کے لئے نبی کا تلاوت آیات اور تزکیہ ہی کافی ہوتا ہے۔وہ آیات کی حکمت اور اس کی غرض معلوم کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتے وہ نبی کی آواز کافی سمجھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی معرفت کے حصول کے لئے دیوانہ وار کام شروع کر دیتے ہیں۔حضرت منشی اروڑے خان صاحب کی محبت کا عالم ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 280-279) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک مخلص صحابی کا نام اروڑہ تھا۔بعض لوگ جن کے بچے عام طور پر فوت ہو جاتے ہیں۔وہ بچہ کو میلے کو ڈھیر پر گھسیٹتے ہیں کہ شائد وہ اس طرح بچ جائے اور پھر ان کا نام اروڑہ رکھ دیا جاتا ہے۔ان منشی صاحب کا نام بھی اسی طرح ان کے والدین نے اروڑہ رکھا تھا۔مگر وہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں اروڑہ نہ تھے۔ماں باپ نے ان کا نام اس لئے رکھا تھا کہ شائد میلے کے ڈھیر پر پڑ کر ہی یہ بچہ زندہ رہے مگر اللہ تعالیٰ انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدموں میں ڈال کر نہ صرف جسمانی موت سے بلکہ روحانی موت سے بھی بچانا چاہتا تھا۔ماں باپ نے اسے گند کی نذر کرنا چاہا۔مگر خدا تعالیٰ نے اس کے پاک دل کو دیکھا اور اسے اپنے لئے قبول کیا چنانچہ اس نے انہیں ایمان نصیب کیا اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخلص صحابی بنے اور ایسے مخلص کہ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ایسے اخلاص کے بغیر نجات کی امید رکھنا فضول بات ہے۔ان لوگوں نے اپنے