تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 598 of 862

تذکار مہدی — Page 598

تذکار مهدی ) 598 روایات سید نا محمود مولوی محمد احسن صاحب امروہی ، شیخ رحمت اللہ صاحب کو مخاطب کر کے کہتے کہ تم تو ابھی کل کے بچے ہو، تمہیں کیا پتہ کہ معاملات کو کس طرح طے کیا جاتا ہے۔میرا تجربہ تم سے زیادہ ہے۔اور جو کچھ میں کہہ رہا ہوں وہی درست ہے۔حالانکہ مولوی محمد احسن صاحب اور شیخ رحمت اللہ صاحب کی عمر میں صرف چار پانچ سال کا فرق تھا۔مگر چار پانچ سال کے تفاوت سے ہی انسان یہ خیال کرنے لگ جاتا ہے کہ مجھے اس بات کا حق حاصل ہے کہ دوسروں پر حکومت کروں۔مجھے حق حاصل ہے کہ میں دوسروں کو نصیحت کا سبق دوں اور ان کا فرض ہے کہ وہ میری اطاعت کریں اور جو کچھ میں کہوں اس کے مطابق عمل بجالائیں۔پس ایسی صورت میں اگر کوئی نو جوان کسی بوڑھے کو نصیحت کرے گا تو یہ صاف بات ہے کہ بجائے نصیحت پر غور کرنے کے اس کے دل میں غصہ پیدا ہو گا کہ یہ نوجوان مجھے نصیحت کرنے کا کیا حق رکھتا ہے اس طرح بجائے بات ماننے کے وہ اور بگڑ جائے گا۔سبیل الرشاد جلد اول صفحہ 98-97) حقیقی ایمان ایک ماں کو اس کے بچہ کی خدمت کے لئے اگر صرف دلائل دیئے جائیں اور کہا جائے کہ اگر تم خدمت نہیں کرو گی تو گھر کا نظام درہم برہم ہو جائے گا اور یہ ہوگا اور وہ ہوگا تو یہ دلائل اُس پر ایک منٹ کے لئے بھی اثر انداز نہیں ہو سکتے۔وہ اگر خدمت کرتی ہے تو صرف اس جذبہ محبت کے ماتحت جو اس کے دل میں کام کر رہا ہوتا ہے اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ ایمان العجائز ہی انسان کو ٹھوکروں سے بچاتا ہے۔ورنہ وہ لوگ جو حیل و حجت سے کام لیتے ہیں اور قدم قدم پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلاں حکم کیوں دیا گیا ہے اور فلاں کام کرنے کو کیوں کہا گیا ہے وہ بسا اوقات ٹھوکر کھا جاتے ہیں اور اُن کا رہا سہا ایمان بھی ضائع ہو جاتا ہے لیکن کامل الایمان شخص اپنے ایمان کی بنیا د مشاہدہ پر رکھتا ہے۔وہ دوسروں کے دلائل کو تو سُن لیتا ہے مگر اُن کے اعتراضات کا اثر قبول نہیں کرتا کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کو اپنی روحانی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوتا ہے۔منشی اروڑے خان صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک صحابی تھے اُن کا ایک لطیفہ مجھے یاد ہے۔وہ کہا کرتے تھے کہ مجھے بعض لوگوں نے کہا کہ اگر تم مولوی ثناء اللہ صاحب کی ایک دفعہ تقریر سن لو تب تمہیں پتہ لگے کہ مرزا صاحب بچے ہیں یا نہیں وہ کہنے لگے میں نے ایک دفعہ اُن کی تقریر سنی۔بعد میں لوگ مجھ سے پوچھنے لگے اب بتاؤ کیا