تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 862

تذکار مہدی — Page 20

تذکار مهدی ) 20 روایات سید نا محمودی جانتا تھا کہ یہ کوئی حصے والی چیز نہیں مگر چونکہ وہ چاہتا تھا کہ ان کا صدمہ کسی طرح دُور ہو اس لئے اُس نے مذاق کر دیا۔اُنہیں یہ سن کر سخت غصہ آیا اور اُنہوں نے زور سے روٹی اُس کی طرف پھینکی جو اس کی ناک پر لگی اور خون بہنے لگ گیا۔یہ دیکھ کر وہ اُٹھے اور میراثی سے ہمدردی کرنے لگے۔اس طرح اُن کی دماغی حالت جو صدمہ سے غیر متوازن ہو گئی تھی درست ہوگئی ورنہ خطرہ یہی تھا کہ وہ اس غم سے کہیں پاگل نہ ہو جائیں۔پھر خدا نے اُن کیلئے ایسے سامان پیدا فرما دیے کہ وہ وہاں سے خوب علم پڑھ کر واپس آئے۔تو جب انسان کسی بات کا پختہ ارادہ کر لیتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کے لئے سامان بھی پیدا کر دیتا ہے اصل میں اللہ تعالیٰ نے انسان کے دل میں یہ مادہ رکھا ہے کہ وہ قربانی کی قدر کرتا ہے۔اگر لوگ دیکھیں کہ واقعہ میں کوئی شخص تکلیف اُٹھا رہا ہے اور دوسروں کے فائدہ کے لئے اپنے نفس کو مشقت میں ڈال رہا ہے تو اُن کے دلوں میں ضرور جوش پیدا ہوتا ہے کہ ہم بھی اس سے کوئی نیک سلوک کر کے ثواب میں شامل ہو جائیں۔( زندگی وقف کرنے کی تحریک، انوار العلوم جلد 17 صفحہ 304 تا 305 ) دادا نے با قاعدہ علم طب حاصل کیا تھا ہمارے دادا کا قصہ مشہور ہے۔ایک دفعہ مہاراجہ رنجیت سنگھ صاحب سری گوبند پور میں شکار کے لئے آئے۔ان کے ساتھ ایک باز والا تھا جسے اتفاقاً نزلہ ہو گیا۔ہمارے دادا طب بھی کرتے تھے۔دلی میں انہوں نے باقاعدہ یہ علم حاصل کیا تھا اور گو انہوں نے علم طب کو پیشہ کے طور پر کبھی اختیار نہیں کیا لیکن مخلوق کی خدمت اور لوگوں کی خیر خواہی کے لئے اس فن سے بھی کام لیا کرتے تھے۔جب باز والے کو نزلہ ہوا تو وہ گھبرایا کہ کل شکار کا دن ہے اگر میں زیادہ بیمار ہو گیا تو مہاراجہ صاحب ناراض ہوں گے کہ عین کام کے دن بیمار ہو گیا۔چنانچہ وہ ہمارے دادا کے پاس آیا اور علاج کی درخواست کی۔آپ نے اس کے لئے نسخہ لکھا جو ایک پائی میں تیار ہو گیا اور اس کے استعمال سے اسے فوری طور پر افاقہ ہو گیا۔اُسی دن مہاراجہ رنجیت سنگھ صاحب کے لڑکے کو بھی نزلہ ہو گیا۔کسی نے ذکر کیا کہ باز والے کو یہی شکایت ہوگئی تھی جس پر مرزا صاحب نے اُسے ایک نسخہ لکھ کر دیا اور اسے فوراً آرام آ گیا۔شہزادہ نے ہمارے دادا کو بلوایا اور اپنے نزلہ