تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 560 of 862

تذکار مہدی — Page 560

تذکار مهدی ) 560 روایات سید نا محمود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابیں ہی علم کا سمندر ہیں۔اس وقت جب کہ اکثر لوگ خود ہی مسیح کو وفات یافتہ کہہ رہے ہیں ان بحثوں میں کیا رکھا ہے کہ وفات مسیح کے یہ دلائل ہیں اور فلانے علامہ نے یہ لکھا اور فلاں امام نے یہ لکھا۔کن چیزوں پر حصر کرنے کا نام علم رکھ لیا گیا ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ یہ بالکل بے کار چیزیں ہیں یہ بھی مفید چیزیں ہیں مگر ان کی مزید تحقیق کی چنداں ضرورت نہیں۔ان کے لئے کافی ذخیرہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب میں آچکا ہے۔اب ان سوالات سے ایسا ہی تعلق ہونا چاہئے تھا جبیںاسیر فی الکتب کرتے ہوئے کوئی نئی بات آ گئی تو اسے معمولی طور پر نوٹ کر لیا مگر اس پر اپنے دماغوں کو لگانے اور اپنی محنت کو ضائع کرنے کے کیا معنی ہیں۔تمہیں اس سے کیا تعلق کہ فلاں امام نے کیا لکھا۔تمہیں تو اپنے اندر ایک آگ پیدا کرنا چاہئے ایمان پیدا کرنا چاہئے ، اخلاق پیدا کرنے چاہئیں ،اُمنگیں پیدا کرنی چاہئیں اور تمہیں سمجھنا چاہئے کہ تمہیں خدا نے کسی خاص کام کے لئے پیدا کیا ہے اور تم ( خطبات محمود جلد 16 صفحہ 39) زمین میں اس کے خلیفہ ہو۔مخالفین بھی ایمان لانے کا موجب ہو سکتے ہیں جتنی زیادہ گالیاں دیتے ہیں اتنا ہی زیادہ ہمیں ان پر رحم آتا ہے یہ طریق ہے جو بچے مومن کو اختیار کرنا چاہئے اور اسی کو اختیار کر کے کامیابی اور برکت حاصل ہو سکتی ہے یہ مت خیال کرو کہ دنیا تمہاری مخالف ہو گئی ہے۔یہی گالیاں ہیں جو کھاد کا کام دیں گی اور انہیں گالیوں کی وجہ سے انہیں کے بھائی بندوں میں سے لوگ ہمارے سلسلہ میں داخل ہوں گے۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک بڑے ادیب جو محاورات اردو کی کتاب بھی چالیس جلدوں میں شائع کرنے کا ارادہ رکھتے تھے اور جس کا کچھ حصہ نواب صاحب رامپور نے شائع بھی کرایا تھا، قادیان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کرنے آئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان سے دریافت کیا کہ آپ کو سلسلہ کی تبلیغ کس نے کی ؟ انہوں نے کہا مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے۔بچپن کی وجہ سے مجھے اس جواب پر بڑی حیرت ہوئی اور جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پوچھا کس طرح؟ تو انہوں نے بتایا کہ میں نے جب مولوی محمد حسین صاحب کی تحریریں پڑھیں تو مجھے ان میں اس قدر غصہ اور دیوانگی نظر آئی کہ جب تک حقیقی خطرہ سامنے نہ ہو اس وقت تک وہ غصہ اور دیوانگی پیدا نہیں ہو