تذکار مہدی — Page 548
تذکار مهدی ) 548 → روایات سید نا محمود باتوں ہی باتوں میں یہ بھی بیان کر دیا کہ ریلوے ٹکٹ میں میں اس رعایت کے ساتھ آیا ہوں آپ نے ایک روپیہ اس کی طرف پھینک کر مسکراتے ہوئے کہا اُمید ہے جاتے ہوئے ایسا کرنے کی ضرورت نہ رہے گی۔(جماعت قادیان کو نصائح ، انوار العلوم جلد چہارم صفحہ 23) خدا تعالیٰ کے لئے غیرت خدا نے تو تقدیر اس لئے بنائی ہے کہ خدا سے انسان کا تعلق مضبوط ہو مگر اس کا الٹا استعمال کرتے ہیں اگر بعض لوگوں کے گھروں میں کوئی موت ہو جائے۔مثلاً کوئی بچہ مر جاوے تو وہ کہتا ہے کہ ”ربا تیرا پتر مردا تے تینوں پتا لگدا یعنی اے خدا تیرا لڑکا مرتا تو مجھے معلوم ہوتا کہ اس کا کس قدر صدمہ ہوتا ہے۔نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَالِک گویا خدا نے ان پر بڑا ظلم کیا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ خدا پر بھی ایسا ہی ظلم ہو۔یہاں ایک شخص تھے بعد میں وہ بہت مخلص احمدی ہو گئے اور حضرت صاحب سے ان کا بڑا تعلق تھا مگر احمدی ہونے سے قبل حضرت صاحب ان سے ہیں سال تک ناراض رہے۔وجہ یہ کہ حضرت صاحب کو ان کی ایک بات سے سخت انقباض ہو گیا اور وہ اس طرح کہ ان کا ایک لڑکا مر گیا۔حضرت صاحب اپنے بھائی کے ساتھ ان کے ہاں ماتم پرسی کے لئے گئے ان میں قاعدہ تھا کہ جب کوئی شخص آتا اور اس سے ان کے بہت دوستانہ تعلقات ہوتے تو اس سے بغل گیر ہو کر روتے اور چیخیں مارتے اسی کے مطابق انہوں نے حضرت صاحب کے بڑے بھائی سے بغل گیر ہو کر روتے ہوئے کہا کہ خدا نے مجھ پر بڑا ظلم کیا ہے۔یہ سن کر حضرت صاحب کو ایسی نفرت ہو گئی کہ ان کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔بعد میں خدا نے انہیں توفیق دی اور وہ ان جہالتوں سے نکل آئے۔غرض تقدیر کے مسئلہ کے غلط سمجھنے کا یہ نتیجہ ہے کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ خدا نے ہم پر یہ ظلم کیا ، وہ ستم کیا اور اس طرح خدا کو گندی سے گندی گالیاں دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔( تقدیرالہی۔انوار العلوم جلد چہارم صفحہ 607-606) حضرت چوہدری رستم علی صاحب کا اخلاص بے شک ہماری جماعت میں ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے مالی لحاظ سے سلسلہ کی بہت بڑی خدمت کی ہے اور ہم اُن کی قدر کرتے ہیں لیکن جن لوگوں نے اپنی زندگیاں اسلام کے لیے وقف کر دیں اور رات اور دن وہ خدمت سلسلہ میں مصروف رہے اُن کے وجود۔