تذکار مہدی — Page 427
تذکار مهدی ) 427 روایات سید نا محمود اس کے سامنے ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ کا قول پورا ہو۔اور خدا تعالیٰ کے قول کے مقابلہ میں نہ حکومتیں کوئی حقیقت رکھتی ہیں نہ بادشاہتیں کوئی حقیقت رکھتی ہیں اور نہ جائیدادیں کوئی حقیقت رکھتی ہیں۔وہ ہنستا ہوا جاتا اور اپنی قربانی پیش کر کے خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہو جاتا ہے۔صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب ہمارے جیسے ہی ایک انسان تھے۔کیا ان کے جسم میں جس نہیں تھی اور ہمارے اندر ہے؟ کیا ان کے بیوی بچے نہیں تھے اور ہمارے بیوی بچے ہیں؟ یہاں تو صرف عوام الناس کی شرارت ہے۔اوپر کی گورنمنٹ کم سے کم منہ سے اب تک یہی کہتی چلی آ رہی ہے کہ ہم اقلیتوں کا تحفظ چاہتے ہیں۔مگر وہاں یہ حالت تھی کہ حکومت تک ان کی مخالف تھی۔آخر بادشاہ نے ان کو بلا کر کہا دیکھیں مولوی صاحب! میرے دل میں آپ کا بڑا ادب ہے اور میں آپ کو چھوڑنا چاہتا ہوں لیکن اگر یونہی چھوڑ دوں تو مولوی میرے مخالف ہو جائیں گے۔آپ صرف اتنا کریں کہ جب آپ سے پوچھا جائے کہ کیا آپ قادیانی ہیں؟ تو آپ خواہ دل میں کچھ عقائد رکھیں زبان سے کہہ دیں کہ میں قادیانی نہیں ہوں اس طرح میں آپ کو آسانی سے چھوڑ سکوں گا۔حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف نے کہا بادشاہ! تمہیں جان کی قیمت معلوم ہوتی ہوگی مجھے تو اس کی کوئی قیمت معلوم نہیں ہوتی اور میں تو یہ قربانی پیش کرنے کے لئے ہی تمہارے پاس آیا ہوں۔مجھے تو پہلے بھی کہا گیا تھا کہ میں احمدیت کا اظہار نہ کروں مگر میں نے انکار کر دیا۔دراصل گورنر جس کے سامنے وہ پہلی دفعہ پیش ہوئے وہ بھی ان کے شاگردوں میں سے تھا۔جب آپ اُس سے ملے تو اس نے بھی کہا کہ آپ یہاں سے بھاگ جائے ورنہ آپ کی جان خطرہ میں پڑ جائے گی۔صاحبزادہ صاحب نے کہا تمہاری ہتھکڑیاں کہاں ہیں لا ؤ اور میرے ہاتھوں میں پہناؤ۔مجھے تو آج رات خدا نے بتایا ہے کہ مجھے سونے کے کنگن ڈالے جائیں گے۔پس میں اپنی موت سے نہیں ڈرتا۔میں تو قوم کی نجات کے لئے اپنی جان پیش کرنا چاہتا ہوں۔پھر جب اُنہیں پتھراؤ کیا گیا تو اُس وقت بھی ان کے دل میں اپنی قوم کا کوئی کینہ اور بغض نہیں تھا بلکہ سنگسار کرنے سے پہلے جب انہیں گاڑنے لگے اور گاڑتے اس لئے ہیں کہ پتھروں کے ڈر سے انسان بھاگ نہ جائے تو صاحبزادہ صاحب نے کہا کہ میں بھاگتا تو نہیں مجھے گاڑنے کی کیا ضرورت ہے۔پھر جب ان پر پتھر پڑنے لگے تو دیکھنے والوں کی گواہی ہے کہ صاحبزادہ صاحب بلند آواز سے یہ دعا کرتے جاتے تھے کہ