تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 389 of 862

تذکار مہدی — Page 389

تذکار مهدی ) 389 روایات سید نا محمودی کی کوئی خواہش نہیں میں چاہتا ہوں کہ کسی اور کی بیعت کر لی جائے۔چنانچہ آپ نے اس سلسلہ میں پہلے میرا نام لیا پھر ہمارے نانا جان میر ناصر نواب صاحب کا نام لیا۔پھر ہمارے بہنوئی نواب محمد علی خان صاحب کا نام لیا اسی طرح بعض اور دوستوں کے نام لئے لیکن ہم سب لوگوں نے متفقہ طور پر یہی عرض کیا کہ اس منصب خلافت کے اہل آپ ہی ہیں چنانچہ سب لوگوں نے آپ کی بیعت کر لی۔(خلافت راشدہ، انوارالعلوم جلد 15 صفحہ 489 تا 491) حق اولاد در اولاد میں چھوٹا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام وفات پاگئے۔آپ کی وفات کے بعد والدہ مجھے بیت الدعاء میں لے گئیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہاموں والی کاپی میرے سامنے رکھ دی اور کہا کہ میں سمجھتی ہوں۔یہی تمہارا سب سے بڑا ورثہ ہے میں نے ان الہامات کو دیکھا تو ان میں ایک الہام آپ کی اولاد کے متعلق یہ درج تھا کہ وو حق اولاد در اولاد اسی طرح ایک اور الہام درج تھا۔جو منذ رتھا اور اس کے نیچے لکھا تھا کہ جب میں نے یہ الہام محمود کی والدہ کو سنایا تو وہ رونے لگ گئیں۔میں نے کہا کہ تم یہ الہام مولوی نورالدین صاحب کے پاس جا کر بیان کرو۔انہوں نے محمود کی والدہ کو تسلی دی اور کہا کہ یہ الہام منذر نہیں بلکہ مبشر ہے۔حق اولاد در اولاد کے معنے در حقیقت یہی تھے کہ وہ حق جو باہر سے تعلق رکھتا ہے۔یعنی زمینوں اور جائیدادوں وغیرہ میں حصہ یہ کوئی زیادہ قیمتی نہیں۔زیادہ قیمتی یہ چیز ہے کہ میں نے تمہاری اولاد کے دماغوں میں وہ قابلیت رکھ دی ہے کہ جب بھی یہ اس قابلیت سے کام لیں گے۔دنیا کے لیڈر ہی بنیں گے باقی ورثہ ضائع ہو جاتا ہے۔مگر یہ وہ ورثہ ہے جو کبھی ضائع نہیں ہوسکتا اور یہ وہ ورثہ ہے جو ہم نے تمہاری اولاد کے دماغوں میں مستقل طور پر رکھ دیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں بعد میں جو کچھ بھی ملا۔حق اولاد در اولاد کی وجہ سے ہی ملا اور میں نے جتنے کام کیسے اپنی دماغی اور ذہنی قابلیت کی وجہ سے ہی کئے۔ورنہ مجھ سے زیادہ کتابیں پڑھنے والے لوگ دنیا میں موجود تھے۔اگر ان کے دماغوں میں بھی وہی قابلیت ہوتی جو مجھ میں ہے۔تو دنیا میں دس ہزار محمود اور بھی ہوتا۔لیکن اگر ساری دنیا میں صرف ایک ہی محمود ہے۔تو اس کی وجہ وہی حق اولاد در اولاد ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمار اور ثہ ہمارے دماغوں کے اندر رکھ دیا ہے اور یہ