تذکار مہدی — Page 390
تذکار مهدی ) کارمهدی 390 روایات سید نا محمود وہ دولت ہے جسے کوئی شخص چرا نہیں سکتا۔جیسے حضرت مسیح علیہ السلام نے کہا کہ جو کچھ تم زمین پر جمع کرو گے۔اسے کیڑا کھا جائے گا۔لیکن اگر تم آسمان پر جمع کرو تو وہ ہمیشہ کے لئے محفوظ رہے گا اور کوئی کیڑا اسے نہیں کھا سکے گا۔اسی طرح جائیداد میں تباہ کی جاسکتی ہیں۔زمینیں چھینی جاسکتی ہیں۔لیکن ترقی کی وہ قابلیت جو دماغوں کے اندر ودیعت کر دی گئی ہوا سے کوئی شخص چھین نہیں سکتا۔چنانچہ دیکھ لو وہی جائیداد جس کا حساب میں نے کروڑوں میں لگایا ہے اور جو شاید چند سالوں کے بعدار بوں کی جائیداد بن جاتی۔وہی ہمارے شریک بھائیوں کے سپر دتھی۔مگر اس کی کوئی قیمت نہ تھی اور ہم اس سے اس قدر نا واقف تھے کہ مجھے یاد ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد ایک دن ہمارے نانا جان والدہ صاحبہ کے پاس آئے اور انہوں نے غصہ میں رجسٹر زمین پر پھینک دیئے اور کہا کہ میں کب تک بڑھا ہو کر بھی تمہاری خدمت کرتا رہوں۔اب تمہاری اولاد جوان ہے اس سے کام لو اور زمینوں کی نگرانی ان کے سپرد کرو۔والدہ نے مجھے بلایا اور رجسٹر مجھے دے دیئے اور کہا کہ تم کام کرو۔تمہارے نانا یہ رجسٹر پھینک کر چلے گئے ہیں۔میں ان دنوں قرآن اور حدیث کے مطالعہ میں ایسا مشغول تھا کہ جب زمینوں کا کام مجھے کرنے کے لئے کہا گیا۔تو مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے مجھے قتل کر دیا ہے۔مجھے یہ بھی پتا نہیں تھا کہ جائیداد ہے کیا بلا اور وہ کس سمت میں ہے۔مغرب میں ہے یا مشرق میں۔شمال میں ہے یا جنوب میں میں نے زمینوں کی لسٹیں اپنے ہاتھ میں لے لیں اور دہ شکل بنائے گھر سے باہر نکلا۔مجھے اس وقت یہ علم نہیں تھا کہ حق اولاد در اولاد کا الہام کیا کام کر رہا ہے۔میں جو نہی باہر نکلا ایک صاحب مجھے ملے اور کہنے لگے میاں صاحب میں نے سنا ہے کہ آپ کو زمینوں کے لئے کسی نوکر کی ضرورت ہے۔میں نے کہا آج نانا جان غصہ میں آکر والدہ کے سامنے رجسٹر پھینک کر چلے گئے ہیں اور میں حیران ہوں کہ یہ کام کس طرح کروں۔کہنے لگے کہ میں اس خدمت کے لئے حاضر ہوں۔میں نے کہا آپ شوق سے یہ کام سنبھالیں۔در حقیقت یہ آپ کا ہی حق ہے۔مگر آپ لیں گے کیا ؟ کہنے لگے آپ مجھے صرف دس روپے دے دیجئے۔میں نے کہا دس روپے میرے پاس تو ایک پیسہ بھی نہیں۔کہنے لگے آپ فکر نہ کریں بڑی بھاری جائیداد ہے اور میری تنخواہ اس میں سے بڑی آسانی کے ساتھ نکل آئے گی۔میں نے اسی وقت بغیر پڑھے رجسٹر اس کے حوالے کر دیئے اور کہا کہ اگر آپ دس روپے پیدا کر سکیں تو لے لیجئے۔ورنہ میرے پاس تو ایک پیسہ بھی نہیں۔انہی دنوں قرآن کریم کے پہلے