تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 862

تذکار مہدی — Page 373

تذکار مهدی ) 373 روایات سید نا محمود عمر صرف ہیں سال کے قریب تھی۔اس وقت میں نے دیکھا کہ جماعت کے بعض دوستوں کے قدم لڑکھڑا گئے اور ان کی زبانوں سے اس قسم کے الفاظ نکلے کہ ابھی تو بعض پیشگوئیاں پوری ہونے والی تھیں۔مگر آپ کی تو وفات ہوگئی ہے اب ہمارے سلسلہ کا کیا بنے گا؟ جب میں نے یہ الفاظ سنے تو اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ایک جوش پیدا کیا میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نعش کے سرہانے کھڑا ہو گیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے اسی کی قسم کھا کر یہ عہد کیا۔کہ اے میرے رب ! اگر ساری جماعت بھی اس ابتلا کی وجہ سے کسی فتنہ میں پڑ جائے تب بھی میں اکیلا اس پیغام کو جو تُو نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ بھیجا ہے دنیا کے کناروں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا اور اس وقت تک چین نہیں لوں گا جب تک کہ میں ساری دنیا تک احمدیت کی آواز نہ پہنچا دوں۔اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے محض اپنے فضل سے مجھے اس عہد کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائی اور میں نے آپ کے پیغام کو دنیا کے کناروں تک پہنچانے کے لئے اپنی تمام زندگی وقف کر دی جس کا نتیجہ آج ہر شخص دیکھ رہا ہے کہ دنیا کے اکثر ممالک میں ہمارے مشن قائم ہو چکے ہیں اور ہزار ہا لوگ جو اس سے پہلے شرک میں مبتلا تھے یا عیسائیت کا شکار ہو چکے تھے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود اور سلام بھیجنے لگ گئے ہیں۔لیکن ان تمام نتائج کے باوجود یہ حقیقت ہمیں کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ دنیا کی اس وقت اڑھائی ارب کے قریب آبادی ہے اور ان سب کو خدائے واحد کا پیغام پہنچانا اور انہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقہ بگوشوں میں شامل کرنا جماعت احمدیہ کا فرض ہے۔پس ایک بہت بڑا کام ہے جو ہمارے سامنے ہے اور بڑا بھاری بوجھ ہے جو ہمارے کمزور کندھوں پر ڈالا گیا ہے اتنے اہم کام میں اللہ تعالیٰ کی معجزانہ تائید و نصرت کے سوا ہماری کامیابی کی کوئی صورت نہیں ہم اس کے عاجز اور حقیر بندے ہیں اور ہمارا کوئی کام اس کے فضل الفضل 2 جنوری 1963 ء جلد 52/17 نمبر 2 صفحہ 1) کے بغیر نتیجہ خیز نہیں ہوسکتا۔ہر بچہ کے اندر یقین پیدا ہو گا میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت طبعی سبقوں کی طرف کم توجہ کرتی ہے اور دنیوی