تذکار مہدی — Page 372
تذکار مهدی ) وو 372 وقت رسید یعنی تیری وفات کا وقت آگیا ہے۔روایات سید نا محمود آپ کی وفات پر انگریزی و دیسی ہندوستان کے سب اخبارات نے باوجود مخالفت کے اس بات کا اقرار کیا کہ اس زمانہ کے آپ ایک بہت بڑے شخص تھے۔) سیرت حضرت مسیح موعود۔انوار العلوم جلد 3 صفحہ 377 تا 380 ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے صحابہ کا عشق و محبت ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا۔آپ کے دیکھنے والوں کو آپ سے جو محبت تھی اس کا اندازہ وہ لوگ نہیں کر سکتے جو بعد میں آئے یا جن کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں عمر چھوٹی تھی۔مگر مجھے خدا تعالیٰ نے ایسا دل دیا تھا کہ میں بچپن سے ہی ان باتوں کی طرف متوجہ تھا۔میں نے ان لوگوں کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے محبت کا اندازہ لگایا ہے جو آپ کی صحبت میں رہے۔میں نے سالہا سال ان کے متعلق دیکھا کہ انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جدائی کی وجہ سے اپنی زندگی میں کوئی لطف محسوس نہ ہوتا تھا اور دنیا میں کوئی رونق نظر نہیں آتی تھی۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ جن کے حوصلہ کے متعلق جو لوگ واقف ہیں جانتے ہیں کہ کتنا مضبوط اور قوی تھا۔وہ اپنے غموں اور فکروں کو ظاہر نہیں ہونے دیتے تھے مگر انہوں نے کئی دفعہ جب کہ آپ اکیلے ہوتے اور کوئی پاس نہ ہوتا۔مجھے کہا۔میاں! جب سے حضرت صاحب فوت ہوئے ہیں مجھے اپنا جسم خالی معلوم ہوتا ہے اور دنیا خالی خالی نظر آتی ہے۔میں لوگوں میں چلتا پھرتا اور کام کرتا ہوں مگر پھر بھی یوں معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں کوئی چیز باقی نہیں رہی۔آپ کے علاوہ کئی اور لوگوں کو بھی میں نے دیکھا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت میں رہے۔ان کی محبت اور عشق ایسا بڑھا ہوا تھا کہ کوئی چیز انہیں لطف نہ دیتی اور وہ چاہتے کہ کاش ہماری جان نکل جائے تو ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جاملیں۔مگر باوجود اس خواہش کے وہ زندہ تھے مر نہیں گئے تھے۔خطبات محمود جلد 1 صفحہ 145-144) غلبہ اسلام اللہ تعالی کی معجزانہ تائید و نصرت سے ہوگا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جب 1908ء میں انتقال ہوا تو اُس وقت میری