تذکار مہدی — Page 277
تذکار مهدی ) 277 روایات سید نا محمودی کیا تھا صرف براہین احمدیہ کھی تھی کہ اس کی صوفیاء وعلماء میں بہت شہرت ہوئی۔پیر منظور محمد صاحب اور پیر افتخار احمد صاحب کے والد صوفی احمد جان صاحب اُس زمانہ کے نہایت ہی خدارسیدہ بزرگوں میں سے تھے۔جب انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اشتہار پڑھا تو آپ سے خط و کتابت شروع کر دی اور خواہش ظاہر کی کہ اگر کبھی لدھیانہ تشریف لائیں تو مجھے پہلے سے اطلاع دیں۔اتفاقاً انہیں دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو لدھیانہ جانے کا موقع ملا حضرت صوفی احمد جان صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعوت کی۔دعوت کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کے گھر سے واپس تشریف لا رہے تھے کہ صوفی احمد جان صاحب بھی ساتھ چل پڑے۔وہ رتر چھتر والوں کے مرید تھے اور ماضی قریب میں رتر چھتر والے ہندوستان کے صوفیاء میں بہت بڑی حیثیت رکھتے تھے اور تمام علاقہ میں مشہور تھے۔علاوہ زُہد و اتقاء کے انہیں علم توجہ میں اس قدر ملکہ حاصل تھا کہ جب وہ نماز پڑھتے تو ان کے دائیں بائیں بہت سے مریض صف باندھ کر بیٹھ جاتے۔نماز کے بعد جب وہ سلام پھیر تے تو سلام پھیرنے کے ساتھ ہی دائیں بائیں پھونک بھی مار دیتے جس سے بہت سے مرید اچھے ہو جاتے۔صوفی احمد جان صاحب نے ان کی بارہ سال شاگردی کی اور وہ ان سے چکی پیسواتے رہے۔راستہ میں انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا کہ میں نے اتنے سال رتر چھتر والوں کی خدمت کی ہے اور اس کے بعد مجھے وہاں سے اس قدر طاقت حاصل ہوئی ہے کہ دیکھئے میرے پیچھے جو شخص آرہا ہے اگر میں اس پر توجہ کروں تو وہ ابھی گر جائے اور تڑپنے لگے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ سنتے ہی کھڑے ہو گئے اور اپنی سوئی کی نوک سے زمین پر نشان بناتے ہوئے فرمایا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادت تھی جب آپ پر خاص جوش کی حالت ہوتی تو آہستگی۔اپنی سوٹی کے سر کو اس طرح زمین پر آہستہ آہستہ رگڑتے جس طرح کوئی چیز گرید کر نکالنی ہو ) صوفی صاحب! اگر وہ گر جائے تو اس سے آپ کو کیا فائدہ ہوگا اور اُس کو کیا فائدہ ہوگا؟ وہ چونکہ واقعہ میں اہل اللہ میں سے تھے اور خدا تعالیٰ نے اُن کو دُور بین نگاہ دی ہوئی تھی اس لئے یہ بات سنتے ہی اُن پر محویت کا عالم طاری ہو گیا اور کہنے لگے میں آج سے اس علم سے تو بہ کرتا ہوں مجھے معلوم ہو گیا ہے کہ یہ دنیوی بات ہے دینی بات نہیں۔چنانچہ اس کے بعد انہوں نے ایک اشتہار دیا جس میں لکھا کہ یہ علم اسلام کے ساتھ مخصوص نہیں۔چنانچہ کوئی ہندو اور عیسائی بھی اس علم میں ماہر ہونا چاہے تو ہوسکتا ہے اس لئے میں اعلان کرتا ہوں کہ آج سے میرا کوئی مرید ا سے اسلام کا جزو سمجھ کر نہ کرے ا ނ