تذکار مہدی — Page 276
تذکار مهدی ) 276 روایات سید نا محمود ) کی روحانی بینائی اتنی تیز تھی کہ انہوں نے دعوی سے پہلے ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو لکھا کہ ہم مریضوں کی ہے تمہی نگاه تم مسیحا بنو خدا کے لئے انہوں نے اپنے اولاد کو مرتے وقت وصیت کی تھی کہ میں اب تو مر رہا ہوں۔مگر اس بات کو اچھی طرح یاد رکھنا کہ مرزا صاحب نے ضرور ایک دعوی کرنا ہے اور میری وصیت تمہیں یہی ہے کہ مرزا صاحب کو قبول کر لینا۔غرض اس پایہ کے وہ روحانی آدمی تھے۔انہوں نے اپنی جوانی میں بارہ سال تک وہ چکی جس میں بیل جوتا جاتا ہے۔اپنے پیر کی خدمت کرنے کے لئے چلائی اور بارہ سال تک اس کے لئے آٹا پیتے رہے۔تب انہوں نے روحانیت کے سبق ان کو سکھائے تو وہ لوگ جو روحانی کہلاتے تھے۔وہ بھی لوگوں کو روحانی باتیں بتانے میں سخت بخل سے کام لیا کرتے تھے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نہ صرف وہ ساری باتیں دنیا کو بتا دیں۔بلکہ ان سے ہزاروں گنا زیادہ اور باتیں بھی ایسی بتائیں جو پہلے لوگوں کو معلوم نہیں تھیں اور اس طرح علوم کو آپ نے ساری دنیا میں بکھیر دیا۔مگر جیسا کہ حدیثوں میں خبر دی گئی تھی۔دنیا نے اس کی قدر نہ کی۔(خطبات محمود جلد 25 صفحہ 23-24) معجزہ کا مقصد ہدایت دینا ہونا چاہئے قوت ارادی جب خدا تعالیٰ کے تابع ہو جائے تو وہ ایمان بن جاتی ہے لیکن جب آزاد ہو تو صرف ارادی قوت کہلاتی ہے جیسے خواہش جب انسان کے تابع ہو تو محض خواہش کہلاتی ہے لیکن جب خدا تعالیٰ کے تابع ہو تو دعا کہلاتی ہے۔یہ دو چیزیں مل کر دنیا میں عظیم الشان تغیر پیدا کر سکتی ہیں، یہ زمین و آسمان کو ہلا سکتی ہیں۔دنیا دار لوگوں نے اس قوت سے کام لیا اور اس کا نام انہوں نے مسمریزم ، ہپنا ٹزم اور میجک (MAGIC) رکھا اور اس کیلئے انہوں نے بڑی بڑی مشقیں کیں مگر وہ سب دنیوی چیزیں ہیں اور حقارت کے قابل ہیں لیکن جس وقت یہ چیزیں خدا تعالیٰ کے دین کے رنگ میں رنگین ہو جاتی ہیں انہیں ایمان اور دعا کہتے ہیں اور ان سے کار ہائے نمایاں سرانجام دیئے جا سکتے ہیں۔علم توجہ کیا ہے؟ وہ محض چند کھیلوں کا نام ہے لیکن دعا وہ ہتھیار ہے جو زمین و آسمان کو بدل دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ابھی دعویٰ نہیں