تذکار مہدی — Page 260
تذکار مهدی ) 260 روایات سید نا محمودی انہوں نے ایک لفظ بھی آپ کے منہ سے نہ سنا اور ایمان لے آئے۔یہی جذ بہ آپ لوگوں میں بھی ہونا چاہئے۔(اللہ تعالیٰ کے راستہ میں تکالیف، انوار العلوم جلد نمبر 13 صفحہ 95-96) اللہ تعالیٰ پر توکل پیدا کریں میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بارہا سنا ہے۔آپ فرمایا کرتے تھے ہماری جماعت میں تین قسم کے لوگ ہیں۔ایک تو وہ ہیں جو میرے دعوئی کو سمجھ کر اور سوچ کر احمدی ہوئے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ میری بعثت کی کیا غرض ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ جس رنگ میں پہلے انبیاء کی جماعتوں نے قربانیاں کی ہیں اسی رنگ میں ہمیں بھی قربانیاں کرنی چاہئیں مگر ایک اور جماعت ایسی ہے جو صرف حضرت مولوی نور الدین صاحب کی وجہ سے ہمارے سلسلہ میں داخل ہوئی ہے۔وہ ان کے استاد تھے انہیں معزز اور عقلمند سمجھتے تھے۔انہوں نے کہا جب مولوی صاحب احمدی ہو گئے ہیں تو آؤ ہم بھی احمدی ہو جائیں۔پس ان کا تعلق ہمارے سلسلہ سے مولوی صاحب کی وجہ سے ہے۔سلسلہ کی غرض اور میری بعثت کی حکمت اور غائت کو انہوں نے نہیں سمجھا۔اس کے علاوہ ایک تیسری جماعت بعض نو جوانوں کی ہے جن کے دل میں گو مسلمانوں کا درد تھا۔مگر قومی طور پر نہ کہ مذہبی طور پر وہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں کا کوئی جتھا ہو۔ان میں کچھ تنظیم ہو ان میں انجمنیں قائم ہوں اور مدر سے جاری ہوں مگر چونکہ عام مسلمانوں کا کوئی جتھا بنانا ان کے لئے ناممکن تھا۔اس لئے جب انہوں نے ہماری طرف ایک جتھا دیکھا تو وہ ہم میں آئے اور اب وہ چاہتے ہیں کہ مدر سے قائم کریں۔اور لوگ ڈگریاں حاصل کریں اسی وجہ سے وہ ہمارے سلسلہ کو ایک انجمن سمجھتے ہیں۔مذہب نہیں سمجھتے۔تو دنیا میں ترقیات کے جو ذرائع سمجھے جاتے ہیں وہ بالکل اور ہیں اور دین میں جو ترقیات کے ذرائع سمجھے جاتے ہیں وہ بالکل اور ہیں۔انجمنیں اور طرح ترقی کرتی ہیں اور دین اور طرح۔دین کی ترقی کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اخلاق کی درستگی کی جائے قربانی اور ایثار کا مادہ پیدا کیا جائے نمازیں پڑھی جائیں۔روزے رکھے جائیں۔اللہ تعالیٰ پر توکل پیدا کیا جائے۔اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کا عہد کیا جائے اگر ہم یہ تمام باتیں کریں تو گو دنیا کی نگاہوں میں ہم پاگل قرار پائیں گے مگر خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ہم سے زیادہ عقلمند اور کوئی نہیں ہو گا۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ مسلمان جب مالی قربانیاں کرتے تو منافق کہا کرتے کہ یہ مسلمان تو