تذکار مہدی — Page 248
تذکار مهدی ) 248 روایات سید نامحمود ނ بی بی دعا کرو میرا بچہ بچ جائے۔وہ صبح چھری تیز کر رہا تھا کوئی قادیان سے آیا ہے جو رسول اللہ کی ہتک کرتا ہے اسکو مارنے گیا ہے وہ کہنے لگی کمبخت چپ کر وہ تو میری بھانجی کا خاوند ہے۔مگر بہر حال ان کے گھر میں خالہ بھی ٹھہری ہوئی تھیں۔اماں جان نے پرانی محبت کی وجہ سے ان خواہش کی کہ مجھے ملا دو۔بھابی جان نے انکار کر دیا کہ وہ تو کہتی ہیں کہ میں اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی پھر ہماری ایک اور بہن تھی ان کی بیٹی بعد میں حکیم اجمل خاں صاحب مرحوم کے بھائی سے بیاہی گئیں تھیں۔حضرت ام المومنین نے ان سے کہا۔وہ چھوٹی بچی تھیں۔ان کو تو ان باتوں کا پتہ نہیں تھا۔انہوں نے پردہ اٹھا کے کہا کہ وہ مصلے پر بیٹھی دعا کر رہی ہیں دیکھ لو۔اماں جان نے جا کر جھانکا تو اسی وقت انہوں نے کھڑکی کھولی اور ہمسایہ میں چلی گئیں اور وہاں سے ڈولی منگا کر کسی اور رشتہ دار کے پاس چلی گئیں۔غرض اتنا ان کے اندر بغض تھا کہ انہوں نے ہم سے ملنا بالکل چھوڑ دیا۔ان کے رشتہ دار اب بھی کراچی میں ہیں۔لاہور میں بھی لوہارو خاندان کے افراد ہیں۔نوابزادہ اعتزاز الدین جو پاکستان میں انسپکٹر جنرل پولیس تھے۔وہ بھی نواب لوہارو کے بیٹے تھے اور بیٹے بھی ہیں۔بعض ان کی اولاد میں سے فوج میں کرنیل ہیں۔ان کے ایک بھائی صمصام مرزا لا ہور میں ہیں۔ان لوگوں سے جب بھی بات کرو۔وہ ہم پر ہنستے ہیں کہ تم بیوقوف ہو۔مولوی صاحب نے اسے مروا دیا تھا۔تم بیوقوفی میں یونہی اپنے مذہبی عقیدہ کے ماتحت سمجھتے ہو کہ نہیں مروایا تھا۔آپ مر گیا تھا۔اس نے خود کشی کوئی نہیں کی اس کو مروا دیا گیا تھا۔غرض یہ واقعہ حضرت خلیفہ اول کے خاندان کے دلوں میں بغض کو بڑھانے کا ایک دوسرا سبب بن گیا۔چوہڑوں کی وجہ سے تکلیف نظام سلسلہ کی مخالفت اور اس کی تاریخ صفحہ 12 تا 13) ہم میں سے کون ہے جسے احمدیت سے روحانی، جسمانی اور مالی فوائد حاصل نہ ہوئے ہوں۔ہمیں خود فائدہ پہنچا ہے۔ہم زمیندار ہیں مگر ہماری زمینوں کی قیمت پہلے اتنی نہ تھی جتنی اب ہے ہم کہتے تو ہیں کہ ہم سلسلہ کے اموال میں سے کچھ نہیں لیتے مگر اس طرح دیکھا جائے تو بہر حال ہمیں سلسلہ کے طفیل فائدہ پہنچا ہے۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ نواب محمد علی خان صاحب سے فرمایا کہ یہاں کے چوہڑوں کی طرف سے بہت تکلیف پہنچ