تذکار مہدی — Page 247
تذکار مهدی ) 247 روایات سید نا محمود جائے اور نہ صرف خود دعاؤں کی عادت ڈالے بلکہ یہ احساس دوسروں کے اندر بھی پیدا کرنے کی کوشش کرے۔آج وہ لوگ بہت کم ہیں جنہیں دعائیں کرنے کی عادت ہے۔ضرورت ہے کہ ہماری جماعت کا ہر فرد ایسا ہو جو راتوں کو جاگے اور خدا تعالیٰ کے آگے سجدہ میں گر کر روئے اور سلسلہ کے لئے دعائیں کرے اور دن کے وقت استغفار اور ذکر الہی کرے اور یہ عادت اس حد تک اپنے اندر پیدا کرے کہ خدا تعالیٰ کا الہام اور اس کا کلام اس پر نازل ہونے لگ جائے۔دیکھو! حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جتنا تغیر دنیا میں پیدا کیا ہے وہ صرف کتابوں کے ذریعہ نہیں کیا۔بلکہ وہ تغیر اس طرح پیدا ہوا ہے کہ آپ نے رات دن اس کے لیے دعائیں کیں جن کی وجہ سے آپ کے اندر خدا تعالیٰ کا نور پیدا ہو گیا۔جو شخص اس نور کو دیکھتا تھا اس کے اندر اشاعتِ اسلام کی آگ لگ جاتی تھی اور پھر وہ آگ آگے پھیلتی جاتی تھی۔پس تم اس بات پر ہی خوش نہ ہو جاؤ کہ تم نے مولوی فاضل پاس کر لیا ہے یا شاہد کا امتحان پاس کر لیا ہے۔بلکہ دعاؤں کی عادت ڈالو اور اتنی دعائیں کرو کہ رات اور دن تمہارا شیوہ ہی دعائیں کرنا ہو۔تم اٹھتے بیٹھتے ، سوتے جاگتے ، چلتے پھرتے دعاؤں میں لگ جاؤ۔اگر تمہارے کسی ساتھی کی طرف سے کوئی خرابی بھی پیدا ہوگی تو تمہاری اور تمہارے ساتھیوں کی دعائیں اُس کا ازالہ کر دیں گی۔دہلی میں مخالفت کا زور (الفضل مورخہ 20 /نومبر 1955 ء جلد 44/9 شماره 271 صفحہ 3 ) 1909 ء یا 1911ء میں ایک دفعہ دلی گئے تو ایک دفعہ حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا بھی ساتھ تھیں چونکہ انہیں اپنی خالہ سے بڑی محبت تھی۔وہ اپنی اماں کی بھاوج کے ہاں ٹھہریں۔ان کو سارے بھائی جان بھائی جان کہتے تھے۔اب ان کے بچے کراچی میں ہیں۔ان کے گھر میں ہی ہم جا کر ٹھہر تے تھے۔اس وقت بھی ان کے گھر میں ہی ٹھہرے بلکہ ان کا ایک لطیفہ بھی مشہور ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام 1891ء میں دلی گئے۔تو آپ کے خلاف بڑا جلسہ ہوا اور شور پڑا لوگوں نے کہا کہ اس کو قتل کر دو۔مولویوں نے وعظ کیا کہ جو اس کو قتل کر دے گا وہ جنتی ہو گا۔ہماری وہ بھابی بڑی مخالف تھیں مگر آخر رشتہ دار تھیں۔ایک دن ان کی نوکر آئی اور آکر کہنے لگی۔