تذکار مہدی — Page 216
تذکار مهدی ) 216 روایات سیّد نا محمود حکیم حسام الدین صاحب کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو اس وقت سے واقفیت تھی جب کہ آپ اپنے والد کے بار بار کے تقاضے سے تنگ آ کر ملازمت کے لئے سیالکوٹ تشریف لے گئے اور وہاں کچہری کی چھوٹی سی ملازمت پر کئی سال تک رہے۔انہی ایام میں حکیم حسام الدین صاحب سے تعلقات ہوئے اور آخر وقت تک تعلقات قائم رہے۔یہ تعلقات صرف انہی کے ساتھ نہ رہے بلکہ ان کے خاندان کے ساتھ بھی رہے۔ان کے بعد میر حامد شاہ صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے سلسلہ میں خاص لوگوں میں شمار ہوتے رہے تاہم حکیم حسام الدین صاحب کے ساتھ جو ابتداء کے تعلقات تھے۔اس مثال سے ان کی خصوصیت نظر آتی ہے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام دعوئی کے بعد سیالکوٹ تشریف لے گئے۔حکیم حسام الدین صاحب کو آپ کے تشریف لانے کی بہت خوشی ہوئی انہوں نے ایک مکان میں ٹھہرانے کا انتظام کیا لیکن جس مکان میں آپ کو ٹھہرایا گیا اس کے متعلق جب معلوم ہوا کہ اس کی چھت پر منڈیر کافی نہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے سیالکوٹ سے واپسی کا ارادہ فرمالیا اور اس وقت میرے ذریعہ ہی باہر مردوں کو لکھ دیا کہ کل ہم واپس قادیان چلے جائیں گے۔نیز یہ بھی بتلا دیا کہ یہ مکان ٹھیک نہیں کیونکہ اس کی چھت پر منڈیر نہیں۔اس خبر کے سننے پر احباب جن میں مولوی عبدالکریم صاحب وغیرہ تھے راضی بقضاء معلوم دیتے تھے لیکن جونہی حکیم حسام الدین صاحب کو معلوم ہوا تو انہوں نے کہا کس طرح واپس جاتے ہیں چلے تو جائیں اور فوراً زنانہ دروازہ پر حاضر ہوئے اور اطلاع کرائی کہ حکیم حسام الدین حضرت صاحب سے ملنے آئے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فوراً باہر تشریف لے آئے۔حکیم صاحب نے کہا مجھے معلوم ہوا ہے کہ حضور اس لئے واپس تشریف لے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ یہ مکان مناسب نہیں مکان کے متعلق تو یہ ہے کہ تمام شہر میں سے جو مکان بھی پسند ہو اسی کا انتظام ہو سکتا ہے۔رہا واپس جانا۔تو کیا آپ اس لئے یہاں آئے تھے کہ فوراً واپس چلے جائیں اور لوگوں میں میری ناک کٹ جائے۔اس بات کو ایسے لب ولہجہ میں انہوں نے ادا کیا اور اس زور کے ساتھ کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بالکل خاموش ہو گئے اور آخر میں کہا۔اچھا ہم نہیں جاتے۔( خطبات محمود جلد سوم صفحہ 299 ،300) خدا نے جس طرح سمجھایا اسی طرح میں نے کیا ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک شخص نے کہا کہ میں آپ کا بہت مداح