تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 862

تذکار مہدی — Page 157

157 تذکار مهدی ) روایات سیّد نا محمود بڑھے شاہ ہی کو پوچھو کہ آیا کوئی ایک موقعہ بھی ایسا آیا ہے جس سے اس نے اپنی طرف سے نیش زنی نہ کی ہو اور پھر اس سے ہی پوچھو کہ کیا کوئی ایک موقعہ بھی ایسا آیا ہے کہ جس میں میں اس پر احسان کر سکتا تھا اور پھر میں نے اس کے ساتھ احسان نہ کیا ہو۔آگے وہ سر ڈال کر ہی بیٹھا رہا۔یہ ایک عظیم الشان نمونہ تھا آپ کے اخلاق کا۔پس ہماری جماعت کو بھی چاہئے کہ وہ اخلاق میں ایک نمونہ ہو۔معاملات کی آپ میں ایسی صفائی ہو کہ اگر ایک پیسہ بھی گھر میں نہ ہو تو امانت میں ہاتھ نہ ڈالیں اور بات اتنی میٹھی اور ایسی محبت سے کریں کہ جو دوسرے کے دل پر اثر کرے۔میں نے تو آج تک محبت سے زیادہ اثر کرنے والی کوئی بات نہیں دیکھی۔اس لئے ہماری جماعت کا بھی محبت آمیز شعار ہو جانا چاہئے کہ جب کوئی بات کرے تو ہر آدمی محسوس کرے کہ اس کے اندر اخلاص ہے اور اس کا دل محبت سے بھرا ہوا ہے۔( خطبات محمود جلد 10 صفحہ 278-277 ) تمام عزت خدا نے ہمارے ساتھ وابستہ کر دی ہے۔بغیر محنت دینی یا محنت دنیوی کے کوئی انسان عزت حاصل نہیں کر سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے زمانہ میں تمام عزت خدا نے ہمارے ساتھ وابستہ کر دی ہے۔اب عزت پانے والے یا ہمارے مرید ہوں گے۔یا ہمارے مخالف ہوں گے چنانچہ فرماتے تھے مولوی ثناء اللہ صاحب کو دیکھ لو وہ کوئی بڑے مولوی نہیں ان جیسے ہزاروں مولوی پنجاب اور ہندوستان میں پائے جاتے ہیں ان کو اگر اعزاز حاصل ہے تو محض ہماری مخالفت کی وجہ سے۔وہ لوگ خواہ اس امر کا اقرار کریں یا نہ مگر واقعہ یہی ہے کہ آج ہماری مخالفت میں عزت ہے یا ہماری تائید میں گویا اصل مرکزی وجود ہمارا ہی ہے اور مخالفین کو بھی اگر عزت حاصل ہوتی ہے تو ہماری وجہ سے۔(تفسیر کبیر جلد ہشتم صفحہ 614) مولوی محمد حسین بٹالوی کا دعویٰ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جوانی کے دوست تھے اور آپ سے تعلق رکھنے والے تھے اور جو ہمیشہ آپ کے مضامین کی تعریف کیا کرتے تھے انہوں نے اس دعویٰ کے معاً بعد یہ اعلان کیا کہ میں نے ہی اس شخص کو بڑھایا تھا