تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 862

تذکار مہدی — Page 88

تذکار مهدی ) 88 روایات سید نا محمودی کیلئے کسی انسان کی ضرورت نہ ہو بلکہ اس کا محافظ خدا ہو اور اس پر جو اعتراض ہو وہ خود اُس کو دور کرے اور اپنی عظمت آپ ظاہر کرے ہمارا قرآن کریم ایسا ہی ہے۔ہاں ہمیں یہ ضرور چاہیئے کہ نہ اعتراض کو اس کی حقیقت سے چھوٹا کریں اور نہ ہی حقیقت سے باہر لے جا کر بڑا بنا دیں بلکہ ہمیں چاہیئے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو موازنہ کی طاقت دی ہے اس سے کام لیں۔قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کے متعلق تاکید، انوار العلوم جلد 18 صفحہ 161-160 ) | بچپن میں شکار کرنے کی عادت بچپن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مجھے ایک ہوائی بندوق لے دی اور میں چند اور بچوں کے ساتھ موضع ناتھ پور کی طرف شکار کرنے چلا گیا۔کھیتوں میں ایک سکھ لڑکا ہمیں ملا اور کہنے لگا یہ کیا ہے؟ ہم نے بتایا کہ بندوق ہے۔وہ پوچھنے لگا اس سے کیا کرتے ہو؟ ہم نے بتایا کہ شکار مارتے ہیں۔اس نے کہا کچھ مارا بھی ہے۔ہم نے کہا ہاں ایک فاختہ ماری ہے۔وہ کہنے لگا ہمارے گاؤں میں چلو وہاں بہت سی فاختائیں ملیں گی جو بیریوں وغیرہ پر بیٹھی رہتی ہیں۔ہم نے اسے کہا کہ گاؤں کے لوگ ناراض تو نہ ہوں گے؟ وہ کہنے لگا کہ نہیں ناراض کیوں ہوں گے تم لوگوں نے فاختہ ہی مارنی ہے ان کو اس سے کیا۔خیر وہ ہمیں ساتھ لے کر گاؤں میں پہنچا اور ایک درخت پر کچھ فاختائیں بیٹھی ہوئی دیکھ کر کہنے لگا کہ وہ ہیں مارو۔میں نے بندوق چلائی اور غالباً ایک کو مار لیا۔پھر وہ ہمیں آگے ایک اور درخت کے پاس لے گیا اس پر بھی فاختہ بیٹھی تھیں۔وہ کہنے لگا کہ لواب ان کو مارو۔اتنے میں ایک بڑھیا نکلی اور کہنے لگی کہ تم لوگوں کو شرم نہیں آتی جیو ہتیا کرتے ہو اور اپنے گاؤں کے لڑکوں کو مخاطب کر کے کہنے لگی کہ تم بڑے بے شرم ہو جو د یکھتے ہو اور منع نہیں کرتے۔اس کا یہ کہنا تھا کہ وہی لڑکا جو ہمیں اپنے ساتھ لایا تھا فوراً بگڑ گیا اس کی آنکھیں سرخ ہو گئیں اور ہمیں کہنے لگا تم کیوں ہمارے گاؤں میں شکار کرتے ہو؟ ہمیں ساتھ لانا اس کا ایک عارضی اثر کے ماتحت تھا مگر جیو ہتیا کی مخالفت ایک پرانا اثر تھا اور اس کے رونما ہوتے ہی وہ عارضی اثر بالکل زائل ہو گیا اور قطعاً بُھول گیا کہ خود ہمیں اپنے ساتھ لایا تھا۔ہم آنے میں متامل تھے کہ لوگ ناراض نہ ہوں مگر اس نے ہمیں یہ یقین دلایا