تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 862

تذکار مہدی — Page 72

تذکار مهدی ) 72 روایات سیّد نا محمود بتائیں ہیں۔چک سکندر سے آنے والے دوست نے بڑے جوش کے ساتھ مصافحہ کے لیئے ہاتھ بڑھایا۔علی شیر صاحب سمجھے کہ شکار میرے ہاتھ آ گیا ہے۔اُس دوست نے علی شیر صاحب کا ہاتھ پکڑ لیا اور پکڑ کر بیٹھ گیا۔گویا اسے اُن سے بڑی عقیدت ہوگئی ہے۔علی شیر صاحب دل میں سمجھے کہ ایک تو میرے قابو میں آ گیا ہے۔اس دوست نے اپنے باقی بھائیوں کو آواز دی کہ جلدی آؤ جلدی آؤ۔اب تو مرزا علی شیر پھولے نہ سمائے کہ اس کے کچھ اور ساتھی بھی ہیں وہ بھی میرا شکار ہو جائیں گے اور میں ان کو بھی اپنا گرویدہ بنالوں گا۔اس دوست کے باقی ساتھی دوڑ کر آگئے تو اس نے کہا۔میں نے تمہیں اس لیئے جلدی بلایا ہے کہ ہم قرآن کریم اور حدیث میں شیطان کے متعلق پڑھا کرتے تھے مگر شکل نہیں دیکھی تھی آج اللہ تعالیٰ نے اُس کی شکل بھی دکھا دی ہے تم بھی غور سے دیکھ لو یہ شیطان بیٹھا ہے۔مرزا علی شیر غصہ سے ہاتھ واپس کھینچتے لیکن وہ نہ چھوڑتا تھا اور اپنے بھائیوں سے کہتا جاتا تھا دیکھ لو اچھی طرح دیکھ لو شاید پھر دیکھنا نہ ملے یہ شیطان ہے۔پھر اس نے اپنے بھائیوں کو سارا قصہ سنایا۔نبوت اور خلافت اپنے وقت پر ظہور پذیر ہو جاتی ہے، انوار العلوم جلد 18 صفحہ 234 تا 239) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پہلی بیگم صاحبہ گجرات کے ضلع میں چک سکندر کے قریب بھاؤ گھسیٹ پور ایک گاؤں ہے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں چند نہایت ہی مخلص بھائی رہا کرتے تھے میں اس وقت چھوٹا تھا مگر مجھے خوب یاد ہے کہ وہ بڑے شوق سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلس میں آکر بیٹھا کرتے تھے اور بڑے محظوظ ہوا کرتے تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ایک سالے تھے۔جن کا نام علی شیر تھا چونکہ خدائی منشا اور اس کے احکام کے ماتحت آپ نے حضرت ام المومنین سے شادی کر لی تھی۔اس لیئے آپ کی پہلی بیوی کے رشتہ دار آپ سے مخالفت رکھنے لگ گئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پہلی بیوی ایک بہت ہی نیک عورت تھیں۔میں نے دیکھا ہے وہ ہم سے اتنی محبت کرتی تھیں کہ کہنے کو تو لوگ کہتے ہیں کہ ”ماں سے زیادہ چاہے پھاپھا کٹنی کہلائے مگر واقعہ یہ ہے کہ ہم بچپن میں یہی سمجھتے تھے کہ وہ ہم سے ماں سے بھی زیادہ پیار کرتی ہیں ہماری بڑی بہن عصمت جب فوت ہوئیں تو ان دنوں چونکہ