تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 862

تذکار مہدی — Page 73

تذکار مهدی ) 73 روایات سید نا محمود محمدی بیگم کی پیشگوئی پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے رشتہ داروں نے ایک مخالفانہ اشتہار شائع کیا تھا اس لئے ہمارے اور ان کے گھر کے درمیان کا جو دروازہ تھا وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بند کروا دیا تھا حضرت ام المومنین نے سنایا کہ جب عصمت بیمار ہوئی اور اس کی حالت نازک ہو گئی تو جس طرح ذبح ہوتے وقت مرغی تڑپتی ہے وہ تڑپتی اور بار بار کہتی کہ میری اماں کو بلا دو چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں بلوایا۔جب وہ آئیں اور انہوں نے عصمت کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا تو اسے آرام اور سکون حاصل ہوا اور تب اس کی جان نکلی۔غرض وہ بہت ہی نیک عورت تھیں اور ان کو اپنی سوکن کے بچوں سے بہت زیادہ محبت تھی خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی وہ بڑی محبت رکھتیں اور آپ کی بڑی قدر کرتی تھیں اور آپ کے متعلق کسی سے وہ کوئی بُری بات نہیں سن سکتی تھیں۔مگر اُن کے بھائی بڑے متعصب تھے اور وہ آنے والے احمدیوں کو ورغلاتے رہتے تھے اور کہتے تھے میں تو اس کا بھائی اور رشتہ دار ہوں میں جانتا ہوں کہ اس نے صرف ایک دُکان کھول رکھی ہے اور کچھ نہیں اور کئی کمزور لوگوں کو دھوکا لگ جاتا کہ جب بھائی یہ بات کہہ رہا ہے تو ٹھیک ہی ہوگی۔میں اس کے حالات کو خوب جانتا ہوں۔تم تو باہر کے رہنے والے ہو تمہیں اصل حالات کا کیا علم ہوسکتا ہے۔تم اس کے دھوکے میں نہ آناور نہ نقصان اٹھاؤ گے۔وہ احمدی دوست مرزا علی شیر کی یہ بات سن کر بڑے شوق سے آگے بڑھے اور کہنے لگے کہ ذرا دست پنجہ تو لے لیں۔اُس نے سمجھا کہ میری باتوں کا اس پر اثر ہو گیا ہے اور میری بزرگی کا یہ قائل ہو گیا ہے کیونکہ ان کی عادت تھی کہ وہ باتیں بھی کرتے جاتے اور ساتھ ساتھ سُبْحَانَ الله اور اَسْتَغْفِرُ اللہ بھی کہتے جاتے۔اُس نے بڑے شوق سے اپنا ہاتھ بڑھایا اور سمجھا کہ آج ایک اچھا شکار میرے قابو آ گیا ہے۔انہوں نے زور سے اُس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اپنے باقی چاروں بھائیوں کو زور زور سے آواز میں دینی شروع کر دیں کہ جلدی آنا ایک ضروری کام ہے۔ہمارے ماموں نے سمجھا کہ اس پر میری بات کا اثر ہو گیا ہے اور اب یہ اپنے بھائیوں کو اس لیے بلا رہا ہے کہ انہیں بتائے کہ یہ ٹھیک کہہ رہا ہے اور وہ اپنے دل میں بڑے خوش ہوئے کہ آج میرا حربہ کارگر ثابت ہوا ہے۔مگر جب ان کے بھائی وہاں پہنچ گئے تو وہ کہنے لگے ہم قرآن اور حدیث میں پڑھا کرتے تھے کہ دنیا میں ایک شیطان ہوا کرتا ہے مگر وہ ہمیں ملتا نہیں تھا۔آج