تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 797 of 862

تذکار مہدی — Page 797

تذکار مهدی ) 797 روایات سید نا محمودی ہے تائی آئی“ تائی صاحبہ حضرت صاحب کی بھاوج تھیں اس لئے ان الفاظ سے یہ مرا تھی کہ آپ اس وقت بیعت کریں گے جس وقت بیعت لینے والے سے ان کا تعلق تائی کا ہوگا۔اگر انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کرنی ہوتی الہام کے یہ الفاظ ہوتے بھاوج آئی اور اگر حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے عہد میں بیعت کرنی ہوتی تو یہ ہونا چاہئے تھا کہ مسیح موعود کے خاندان کی ایک عورت آئی مگر تائی کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا لڑکا جب آپ کا خلیفہ ہوگا تو اس کے ہاتھ پر بیعت کریں کیونکہ اگر آپ کی اولاد سے کسی نے خلیفہ نہیں ہونا تھا تو تائی کا لفظ فضول تھا۔(خطبات محمود جلد 11 صفحہ 253-252) تین پیش گوئیاں اس الہام میں دراصل تین پیشگوئیاں ہیں اول یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد میں سے خلیفہ ہوگا۔دوم یہ کہ اس وقت تائی صاحبہ جماعت میں شامل ہوں گی تیسرے تائی صاحبہ کی عمر کے متعلق پیشگوئی تھی اور وہ اس طرح کہ اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام جن کی اپنی عمر اس وقت 70 سال کے قریب تھی ایک ایسی عورت کے متعلق پیشگوئی کرتے ہیں جو اس وقت بھی عمر میں ان سے بڑی تھی کہ وہ زندہ رہے گی اور آپ کی اولاد سے ایک خلیفہ ہوگا جس کی بیعت میں شامل ہوگی اتنی لمبی عمر کا ملنا بہت بڑی بات ہے انسانی دماغ کسی جوان کے متعلق بھی نہیں کہ سکتا کہ وہ فلاں وقت تک زندہ رہے گا چہ جائیکہ بوڑھے کے متعلق کہا جائے پس یہ ایک بہت بڑا نشان ہے گویا ان کا بیعت کرنا اور میرے زمانہ میں کرنا پھر حضرت مسیح موعود کے بیٹوں میں کرنا پھر حضرت مسیح موعود کے بیٹوں میں سے خلیفہ ہونا کئی ایک پیشگوئیاں ہیں جو دولفظوں (خطبات محمود جلد 11 صفحہ 253) میں بیان ہوئی ہیں۔تائی صاحبہ کی وصیت میں سمجھتا ہوں کہ جس قسم کی روایات اور احساسات پرانے خاندانوں میں پائے جاتے ہیں ان کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ عظیم الشان تغیر ہے کہ تائی صاحبہ نے بیعت میں شامل ہونے کے بعد وصیت بھی کر دی تھی پہلے تو وہ اس کی بھی مخالف تھیں کہ حضرت مسیح موعود کو آبائی قبرستان کی بجائے دوسری جگہ دفن کیا جائے۔چنانچہ مجھے انہوں نے اس وقت کہلا بھی بھیجا کہ آپ کو جدی قبرستان کی بجائے دوسری جگہ دفن نہ کیا جائے۔کیونکہ یہ ایک ہتک ہے اور بعد میں بھی کئی سال