تذکار مہدی — Page 729
تذکار مهدی ) 729 روایات سید نا محمود خطبہ الہامیہ خواب کے ذریعہ نئے نئے علوم سکھائے جاتے ہیں شیطان میں نئے علوم سکھانے کی طاقت نہیں اور نہ ہی نفس کو یہ طاقت ہے کہ جو باتیں اسے معلوم ہی نہیں وہ بتادے تو جس خواب کے ذریعہ سے نئے علوم معلوم ہوں سمجھ لو کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے نئے علوم کی تازہ مثال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا واقعہ ہے۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ آپ عربی میں عید کا خطبہ پڑھیں آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے علم دیا جائے گا۔آپ نے اس سے پہلے کبھی عربی میں تقریر نہ کی تھی لیکن جب تقریر کرنے کے لئے آئے اور تقریر شروع کی تو مجھے خوب یاد ہے گو میں چھوٹی عمر میں ہونے کی وجہ سے عربی نہ سمجھ سکتا تھا مگر آپ کی ایسی خوبصورت اور نورانی حالت بنی ہوئی تھی کہ میں اول سے آخر تک برابر تقریر سنتا رہا حالانکہ ایک لفظ بھی نہ سمجھ سکتا تھا۔تو ایسی خواب جس میں زائد علم دیا جائے وہ ضرور رحمانی ہوتی ہے۔(حقیقۃ الرؤیا۔انوار العلوم جلد 4 صفحہ 126 تا 127 ) | حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کو عید الاضحیٰ سے مشابہت عربی میں اس کو عید الضحیٰ کہتے ہیں۔عوام میں عید الاضحی یعنی دو پہر کی عید مشہور ہے حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے عَجَلِ الْأَضْحَى وَآخِرِ الْفِطْرَ يعني عيد الاضحى کو جلدی پڑھو اور عیدالفطر کو دیر سے پڑھو۔یہ عید ہمارے سلسلہ میں خاص تعلق اور مناسبت رکھتی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بھی اس عید کو ہمارے سلسلہ میں ایک خاص خصوصیت دی ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کبھی کسی جمعہ یا عید کا خطبہ نہیں پڑھا کرتے تھے۔مگر ایک مرتبہ اسی عید کے موقعہ پر الہام کے ذریعہ آپ کو حکم ہوا کہ خطبہ پڑھیں۔چنانچہ آپ نے پڑھا اور اب وہ خطبہ الہامیہ کے نام سے چھپ کر موجود ہے۔تو یہ عید ہمارے سلسلہ سے ایک خاص مناسبت اور تعلق رکھتی ہے اور خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس کی مناسبت بیان فرمائی ہے جو اس طرح ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کو عید الاضحیٰ سے مشابہت بتائی ہے اور وہ مشابہت اللہ تعالیٰ نے سورہ کوثر میں بیان کی ہے جو میں نے ابھی پڑھی ہے۔فرماتا ہے:۔