تذکار مہدی — Page 728
تذکار مهدی ) 728 روایات سید نا محمود مخرب الاخلاق ہیں۔اگر کوئی فلم کلی طور پر تبلیغی یا تعلیمی ہو اور اس میں کوئی حصہ تماشہ وغیرہ کا نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔میری یہی رائے ہے کہ تماشہ تبلیغی بھی ناجائز ہے۔قادیان میں عید کی نماز کیلئے انتظار رپورٹ مجلس مشاورت 1939ء صفحہ 86) رسول کریم ﷺ کی سنت تھی اور آپ کا یہ طریق تھا کہ اس عید کے موقع پر آپ نماز جلدی پڑھایا کرتے تھے اور خطبہ بھی مختصر فرماتے تھے تا کہ جن لوگوں نے قربانی کرنی ہو وہ نماز اسے فارغ ہو کر یا اگر خطبہ سننا چاہیں تو خطبہ سن کر قربانی کر سکیں۔ہمارے ملک میں چونکہ اسلامی عادات اور طریق کی بہت کمی ہے اس لئے عام طور پر اس عید اور اس سے پہلی عید کی نمازوں کے وقت میں زیادہ فرق نہیں کیا جاتا۔میرا منشاء ہے کہ رسول کریم ﷺ کی سنت کو جاری کیا جائے۔لیکن اگر یکدم تغیر کیا جائے تو خطرہ ہے کہ بہت سے لوگ نماز سے محروم رہ جائیں اس لئے آہستہ آہستہ اس سنت کو جاری کیا جائے اور لوگوں کو عادت ڈالی جائے کہ اس عید کی تیاری صبح ہی سے شروع کر دیا کریں اور وقت پر نماز کے لئے پہنچ جایا کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں اس لئے عید کی نمازوں کے متعلق انتظار کیا جاتا تھا کہ یہاں جماعت کم تھی اور باہر سے بہت سے دوست آیا کرتے تھے۔ان کے آنے پر عید کی نماز ہوتی تھی۔لیکن اب حالات بدل رہے ہیں باہر سے آنے والے دوستوں کی تعداد نسبتا کم ہوتی جا رہی ہے اور مقامی دوستوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔اردگرد کے گاؤں کے لوگوں کو شامل کر کے جو عید کی نماز کے لئے قادیان میں آتے ہیں میرے نزدیک یہاں کی تعداد ڈیڑھ دو ہزار کے قریب ہو جاتی ہے۔اور باہر سے آنے والے دوست 10۔20 سے زیادہ نہیں ہوتے۔اس طرح یہاں کے اور باہر سے آنے والے دوستوں میں اس قدر فرق ہو گیا ہے کہ باہر سے آنے صلى الله والوں کی خاطر ہم اس حکم سے ہمیشہ کے لئے دستبردار نہیں ہو سکتے جس کے لئے رسول کریم ہے کا ارشاد موجود ہے۔باہر کے جو دوست نماز میں شامل ہوسکیں اور خدا تعالیٰ نے اس مقام کو برکت دی ہے اس لئے جس قدر بھی آ سکیں آئیں۔ان کو آئندہ یا تو شام کو ہی یا زیادہ سے زیادہ صبح سویرے یہاں پہنچ جانا چاہئے۔بہر حال اس عید کی نماز کو سنت کے مطابق ادا کرنے کی ہمیں آہستہ آہستہ کوشش کرنی چاہئے۔( خطبات محمود جلد 2 صفحہ 119)