تذکار مہدی — Page 726
تذکار مهدی ) 726 روایات سید نامحمود رسول کریم ﷺ کی وفات کے موقع پر انہوں نے بے اختیار اپنے سینہ پر ہاتھ مارا۔یہ روایت لکھ کر آپ نے تحریر فرمایا کہ ایک چیز ہوتی ہے تکلف اور بناوٹ اور ایک چیز ہوتی ہے جذبہ بے اختیاری۔جو امر جذبہ بے اختیاری کے ماتحت ہو اور ایسا نہ ہو کہ جو نص صریح سے ممنوع ہو بعض حالتوں میں وہ جائز ہوتا ہے اور وہاں یہ دیکھا جائے گا کہ یہ فعل کرنے والے نے کس رنگ میں کیا۔سجدہ تو بہر حال منع ہے خواہ کسی جذبہ کے ماتحت ہو مگر بعض افعال ایسے ہوتے ہیں کہ وہ بعض صورتوں میں تکلف اور بعض صورتوں میں جذبہ بے اختیاری کے ماتحت صادر ہوتے ہیں۔اس کے بعد تحریر فرمایا کہ اگر کوئی شخص اس لئے کھڑا ہوتا ہے کہ ایک بڑے آدمی کے آنے پر چونکہ باقی لوگ کھڑے ہیں اس لئے میں بھی کھڑا ہو جاؤں تو وہ گنہگار ہو گا۔مگر وہ جو بے قرار ہو کر کھڑا ہو جاتا ہے جیسے معشوق جب عاشق کے سامنے آئے تو وہ اس کے لئے کھڑا ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا، اس پر گرفت نہیں۔قاضی سید امیر حسین صاحب مرحوم نہایت ہی مخلص احمدی تھے۔میں نے ان سے بہت عرصہ پڑھا ہے وہ احمدیت کے متعلق اپنے اندر عشق کا جذبہ رکھتے تھے۔مجھے یاد ہے میری خلافت کے ایام میں ایک دفعہ جب میں مسجد میں آیا تو قاضی صاحب بھی بیٹھے ہوئے تھے مجھے دیکھتے ہی کھڑے ہو گئے میں نے کہا قاضی صاحب! آپ تو کسی کی تعظیم کے لئے کھڑا ہونا شرک قرار دیا کرتے تھے کہنے لگے " کی کراں میں سمجھداتے ایہی ہاں پر دیکھدے ای کچھ ہو جاندا ہے رہیا جاندا ای نہیں۔یعنی کیا کروں میں سمجھتا تو یہی ہوں لیکن آپ کو دیکھ کر ایسا جذ بہ طاری ہوتا ہے کہ میں بیٹھا نہیں رہ سکتا۔تو حالات کے مختلف ہونے اور جذبات کی بے اختیاری کی وجہ سے حکم بدلتے رہتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں مصافحہ بھی اسی رنگ کی چیز ہے جب مصافحہ رسم ورواج کے ماتحت ہو یا دکھاوے کے طور پر یا اس لئے ہو کہ شاید یہ شرعی احکام میں سے ہے یا اخلاص کے اظہار کا یہ بھی کوئی ذریعہ ہے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔لیکن جب کوئی دیر سے ملتا ہے اور چاہتا ہے کہ بتلائے کہ میں آ گیا ہوں یا بیمار چاہتا ہے کہ میں بتاؤں مجھے صحت ہو گئی ہے۔یا کوئی اس لئے مصافحہ کرتا ہے کہ تا دعاؤں میں وہ یادرہ سکے تو ایسے موقعوں پر مصافحہ ایک نہایت ہی مفید مقصد کو پورا کر رہا ہوتا ہے۔مگر دوسرے اوقات میں وہ بعض دفعہ وقت کو ضائع کرنے والا بھی ہو جاتا ہے۔خطبات محمود جلد 14 صفحہ 106 تا 108 )