تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 689 of 862

تذکار مہدی — Page 689

تذکار مهدی 689 روایات سیّد نا محمود لیتے ہو۔یہ کوئی اچھی بات نہیں بچے دوست کا ملنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے اور وہ کہتا کہ آپ کو غلطی لگی ہوئی ہے۔میرے دوست سب بچے ہیں اور خواہ مجھ پر کیسی ہی مصیبت کا وقت آئے۔یہ میری مدد سے گریز نہیں کریں گے۔اس نے بہتیرا سمجھایا مگر بیٹے پر کوئی اثر نہ ہوا۔باپ نے کہا کہ میں ساٹھ ستر سال کی عمر کو پہنچ گیا۔مگر مجھے تو اب تک صرف ایک ہی دوست ملا ہے اور وہ بھی فلاں غریب شخص جسے اس کا بیٹا حقارت سے دیکھا کرتا تھا اور اپنے باپ سے کہا کرتا کہ آپ اتنے بڑے ہو کر اس سپاہی سے کیوں محبت رکھتے ہیں اور باپ ہمیشہ یہی کہتا کہ مجھے تمام عمر میں اگر کوئی سچا دوست ملا ہے تو یہی ہے آخر ایک دن اس نے اپنے بیٹے سے کہا کہ تم میری بات نہیں مانتے تو تجربہ کر لو اور اپنے دوستوں سے جا کر کہو کہ میرے باپ نے مجھے اپنے گھر سے نکال دیا ہے۔میرے پاس رہنے کی کوئی جگہ نہیں۔میرے لئے رہائش اور خوراک کا انتظام کر دو۔اس نے کہا بہت اچھا۔چنانچہ وہ ایک ایک کے پاس گیا۔مگر جس دوست کے پاس بھی جاتا۔وہ پہلے تو کہتا کہ آپ نے بڑی عزت افزائی فرمائی۔سنائیے آپ کا کیسے آنا ہوا اور جب یہ کہتا کہ میرے باپ نے مجھے نکال دیا ہے۔اب میں آپ کے پاس آیا ہوں۔تا کہ آپ میری رہائش وغیرہ کا انتظام کر دیں۔تو وہ یہ سنتے ہی کوئی بہانہ بنا کر اندر چلا جاتا۔غرض اسی طرح اس نے سارے دوستوں کا چکر لگا لیا اور آخر باپ کے پاس آکر کہا کہ آپ کی بات ٹھیک نکلی۔میرے دوستوں میں سے ایک بھی تو نہیں جس نے مجھے منہ لگایا ہو۔باپ نے کہا اچھا تم نے اپنے دوستوں کا تو تجربہ کر لیا۔اب آج کی رات میرے دوست کا بھی تجربہ کر لینا۔چونکہ وہ امیر آدمی تھا۔اس لئے وہ اپنے دوست کے مکان پر نہیں جایا کرتا تھا۔اکثر وہی اس کے مکان پر آجاتا۔مگر اس رات وہ اچانک بیٹے کو ساتھ لے کر اپنے دوست کے مکان پر گیا اور دروازہ پر دستک دی۔آدھی رات کا وقت تھا اس نے پوچھا کون۔اس نے اپنا نام بتایا کہ میں ہوں۔وہ کہنے لگا۔بہت اچھا ذرا ٹھہرئیے میں آتا ہوں۔یہ باہر انتظار کرنے لگ گئے۔مگر کافی وقت گزر گیا اور وہ اندر سے نہ نکلا۔یہ دیکھ کر بیٹا کہنے لگا جناب آپ کا دوست بھی آخر ویسا ہی نکلا۔باپ کہنے لگا ذرا ٹھہرو۔مایوس نہ ہو۔دیر لگانے کی کوئی وجہ ہوگی۔آخر کوئی آدھ گھنٹہ کے بعد وہ دوست باہر نکلا۔اس کی حالت یہ تھی کہ اس نے گلے میں تلوار لٹکائی ہوئی تھی۔ایک ہاتھ میں روپوں کی تھیلی تھی اور دوسرے ہاتھ سے اس نے اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور کہنے لگا معاف کیجئے مجھے دیر ہو گئی۔