تذکار مہدی — Page 678
تذکار مهدی ) 678 روایات سید نا محمود بھائی کی غلطی کی وجہ سے اس پر پردہ ڈالتے اور اسے چھپا نا شروع کر دیتے ہیں۔بعض اہم اور ضروری امور، خطبات محمود جلد 12 صفحہ 589) سکھوں کا ظلم حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے۔امرتسر میں کسی سکھ نے ایک مسلمان کو خط دیا کہ پڑھ دو۔اس وقت سکھ کی قابلیت یہ مجھی جاتی تھی کہ وہ پڑھا ہوا نہ ہو اور سکھ مختلف بہانوں سے لوگوں سے خط پڑھواتے تا کہ اگر کوئی پڑھ دے تو یہ اس کے مسلمان ہونے کی علامت ہوگی اور اسے مار دیا جائے جسے خط پڑھنے کے لئے دیا گیا اس نے کہا میں پڑھا ہوا نہیں۔سکھ نے کہا۔نہیں۔ضرور پڑھ دو۔اس نے کہا۔میں بالکل نہیں پڑھا ہو ا۔سکھ نے کہا اگر تم پڑھے ہوئے نہیں تو یہ بالکل کا لفظ کہاں سے سیکھ لیا تم ضرور پڑھے ہوئے ہو یہ کہ کر اس نے تلوار سے اس کا سراڑا دیا۔(انوار العلوم جلد نمبر 12 صفحہ 589) اندھا دھند تقلید نہیں کرنی چاہئے ،، دو سب سے پہلی بات جو انسان کے لئے ضروری ہے وہ یہ ہے کہ انانیت کو قائم رکھے اور ایسے طریق پر قائم رہے کہ جباریت کا رنگ نہ اختیار کرے پس مومن کو چاہئے کہ وہ ان تینوں صفات کو قائم رکھے یعنی اس میں انانیت بھی ہوا چھے برے میں تمیز بھی ہو اور اندھا دھند نقل بھی نہ کی جائے بلکہ اپنے آپ کو ایسے رنگ میں قوم کے ساتھ ملائے کہ قوم کے ساتھ ملا بھی رہے اور اس کا اپنا وجود بھی الگ نظر آئے۔بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ بالکل ست بچنئے بن جاتے ہیں۔خواہ کچھ ہی بات ہو وہ سچ ہے سچ ہے“ کہتے اور اپنی رائے اور اپنے ارادے کو دبا کر ضائع کر دیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ ایک راجہ نے ایک دفعہ بینگن کھائے تو اسے بہت ہی مزہ آیا۔وہ جب دربار میں آیا تو کہنے لگا۔بینگن کیا ہی اچھی چیز ہے۔اس کا ایک مصاحب تھا اس نے بھی بینگن کی تعریف کرنی شروع کر دی کہ اور تو اور اس کی شکل ہی دیکھئے کیسی عمدہ ہے۔سر تو ایسا ہے جیسے کسی پیر نے سبز پگڑی باندھ رکھی ہو، نیلگوں لباس تو آسمان کی رنگت کو مات کر رہا ہے، پودے کے ساتھ لٹکا ہوا ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی شہزادہ جھولا جھول رہا ہے۔اور طبی طور پر جتنی اس کی خوبیاں تھیں ساری کی ساری رگن ڈالیں۔یہ باتیں سن کر راجہ کو اور شوق پیدا ہوا اور اس نے کچھ دن بینگن کھائے ، بینگن چونکہ گرم