تذکار مہدی — Page 659
تذکار مهدی ) 659 روایات سید نا محمودی کھاتے تھے۔لیکن بڑی خرابی یہ تھی کہ بد نظمی بہت زیادہ تھی خود اس میں نگرانی کی رغبت نہیں تھی اور ملازم خائن اور بددیانت تھے۔کچھ تو سودا لانے والے بہت مہنگا سودا لاتے تھے اور کم مقدار میں لاتے تھے اور کچھ استعمال کرنے والے اپنے گھروں کو لے جاتے تھے اور پھر کھانا تیار کرنے والے کچھ خود کھا جاتے تھے۔کچھ اپنے رشتہ داروں کو کھلا دیتے تھے اور کچھ ادھر اُدھر ضائع کر دیتے تھے۔اسی طرح سٹور روم کھلے رہتے تھے اور ساری رات کتے اور گیدڑ وغیرہ سامان خوراک کھاتے اور ضائع کرتے رہتے تھے۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بہت مقروض ہو گیا اور بیس سال کی بدنظمی کے بعد اسے بتایا گیا کہ تم مقروض ہو چکے ہو۔اُس کی طبیعت میں سخاوت تھی۔اس لئے لنگر کا بند کرنا اس نے گوارہ نہ کیا۔لیکن ادھر قرض کے اتارنے کی بھی فکر تھی۔اس نے اپنے دوستوں کو بلایا۔اپنا نقص تو کوئی بتاتا نہیں۔ان سب نے کہا کہ سٹور روم کا کوئی دروازہ نہیں ساری رات گیڈر اور کتے وغیرہ سامان خوراک خراب کرتے رہتے ہیں۔اس لئے بہت سارا سامان ضائع ہو جاتا ہے۔اگر سٹور روم کو دروازہ لگا دیا جائے۔تو بہت حد تک بچت ہوسکتی ہے۔اُس نے حکم چلایا کہ دروازہ لگا دیا جائے۔چنانچہ وہ لگا دیا گیا۔یہ کہانیوں میں سے ایک کہانی ہے اور کہانیوں میں کتے اور گیدڑ بھی بولا کرتے ہیں۔رات کو کتوں اور گیدڑوں نے سٹور روم کو دروازہ لگا ہوا دیکھا۔تو انہوں نے شور مچانا شروع کر دیا۔اچانک کوئی بڑھا خرانٹ گیدڑ یا کتا آیا اور اس نے ان سے دریافت کیا کہ تم شور کیوں مچاتے ہو۔اس کی جنس کے افراد نے کہا کہ سٹور روم کو دروازہ لگ گیا ہے۔ہم کھائیں گے کہاں سے۔ہمارے تو علاقہ کےسارے کتے اور گیدڑ یہیں سے کھاتے تھے۔اس نے کہا یونہی تم رونے اور شور مچانے میں اپنا وقت ضائع کر رہے ہو۔جس شخص نے ہیں سال تک اپنا گھر لٹتے دیکھا اور اس کا کوئی انتظام نہ کیا۔اس کے سٹور روم کا بھلا دروازہ کس نے بند کرنا ہے۔اس لئے گھبراؤ نہیں۔اس کہانی میں یہی بتایا گیا ہے۔کہ اگر چاہیں اور چاہیں“ میں بہت فرق ہے کتوں اور گیدڑوں نے شور مچایا کہ اگر اس نے چاہا اور دروازہ بند کر دیا تو ہم کیا کھائیں گے۔کہاں سے اور خرانٹ کتے یا گیدڑ نے کہا اس نے چاہنا ہی نہیں پھر شور کیسا۔پس اگر ہماری جماعت کے افراد نے چاہنا ہی نہیں تو کچھ نہیں ہو سکتا۔لیکن اگر وہ چاہیں تو بڑے سے بڑا مشکل کام بھی دنوں میں کر سکتے ہیں۔ہماری بچپن کی کہانیوں میں الہ دین