تذکار مہدی — Page 24
تذکار مهدی ) 24 روایات سید نا محمود ) فقرہ سن کر انہوں نے زور سے روٹی اٹھا کر اس کی طرف پھینکی جو اتفاقا اس کی ناک پر لگی اور چونکہ روٹی سوکھی ہوئی تھی اس لئے اس کے لگنے سے اس کی ناک کی ہڈی پر زخم ہو گیا اور خون بہنے لگا۔مگر ان تمام مشکلات کے باوجود انہوں نے تعلیم حاصل کی محنت کی اور اس قدر ہمت سے کام لیا کہ آخر ایک بہت بڑے عالم اور طبیب ہو گئے۔واپس آئے تو مہاراجہ رنجیت سنگھ کا زمانہ شروع ہو گیا تھا انہوں نے ان کی جائیداد سات گاؤں واگزار کر دیئے اور جنرل کے عہدہ پر فوج میں مقرر کیا۔رپورٹ مجلس مشاورت 1937ء صفحہ 21-20) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پردادا ! حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پردادا کا ہی واقعہ ہے کہ ایک سکھ رئیس ان سے ملنے کے لئے آیا اور اس نے آ کر کہا کہ مرزا صاحب کو اطلاع دی جائے کہ میں ان سے ملنا چاہتا ہوں۔میں نے خود یہ واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا ہے آپ فرمایا کرتے تھے کہ وہ اس وقت کو ٹھے پر تھے۔جب انہیں اطلاع ہوئی تو وہ ملاقات کے لئے نیچے اترے۔پیچھے پیچھے وہ تھے اور آگے آگے ان کے بیٹے تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دادا تھے گویا بیٹا پہلے اتر رہا تھا اور ان کے پیچھے ان کے والد چلے آ رہے تھے جو بہت بڑے بزرگ ہوئے ہیں حتی کہ میں نے خود سکھوں سے سنا ہے کہ لڑائی میں انہیں گولی ماری جاتی تھی تو گولی ان پر اثر نہیں کرتی تھی۔جب وہ نصف سیڑھیوں پر پہنچے تو نیچے سے انہیں آواز آئی۔سکھ رئیس ان کے بیٹے سے مخاطب ہو کر کہہ رہا تھا۔واہ گرو جی کا خالصہ۔اس پر ان کے بیٹے نے بھی اسی رنگ میں جواب دیا کہ واہ گرو جی کا خالصہ انہوں نے جب اپنے بیٹے کی زبان سے یہ الفاظ سنے تو إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھتے ہوئے وہیں سیڑھیوں سے واپس لوٹ گئے اور فرمانے لگے۔سردار صاحب سے کہہ دو کہ میری طبیعت خراب ہو گئی ہے میں ان سے مل نہیں سکتا۔پھر اپنے بیٹے کا ذکر کر کے فرمانے لگے کہ اس کے زمانہ میں ہماری ریاست جاتی رہے گی۔کیونکہ جس شخص کے اندر اتنی بے غیرتی پیدا ہو گئی ہے کہ اس نے اسلامی شعار کو اختیار نہیں کیا اور جب ایک سکھ نے واہ گورو جی کا خالصہ کہا تو اس نے بھی واہ گورو جی کا خالصہ کہہ دیا وہ ریاست کو کبھی سنبھال نہیں سکے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔خطبات محمود جلد 23 صفحہ 293-292 )