تذکار مہدی — Page 603
+603 روایات سید نا محمودی تذکار مهدی ) وغیر ہم تھے۔وہ لوگ بمنزلہ ایسی زمین کے تھے جن میں اسلام کا بیج بویا گیا اور بعد میں آنے والے اس وقت آئے جب پھل آ گیا۔الشبقُونَ الْأَوَّلُونَ وہی لوگ تھے جو اس وقت آئے جب اسلام کا پودا لگایا جا رہا تھا اور جب ساری دنیا اسے اکھیڑنے کے درپے تھی گو نہیں کہہ سکتے کہ بعد میں آنے والے پھل کھانے کو آئے مگر آئے اس وقت جب پھل آچکا تھا۔یہی حال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کا ہے۔ان پر چندلوگ اس وقت ایمان لائے جب آپ کا ساتھ دینا ہلاکت تھا ایسے ہی لوگ ابو بکر، عمر، عثمان، علی کے مثیل تھے۔انہوں نے اپنے قلوب کو پیش کیا کہ ان میں احمدیت کا بیج بویا جائے اور احمدیت کا پودانشو و نما پائے پھر اور لوگ آئے مگر وہ پہلے لوگوں کے برابر نہیں ہو سکتے سوائے اس کے کہ وہ تقویٰ میں اس قدر ترقی کر جائیں کہ اُن کے دل کا غم اُن کے بعد زمانی سے بھاری ہو جائے۔پہلے آنے والے لوگوں میں سے ایک سید قاضی امیر حسین صاحب بھی تھے وہ ان لوگوں میں سے تھے جو اُس وقت جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام ابھی الفاظ نبی اور محدث وغیرہ کی تشریح کر رہے تھے کہتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام نبی ہیں۔دوسرے لوگوں سے بھی اور خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام سے بھی کہتے۔پہلے پہل وہ قادیان میں سات روپیہ ماہوار پر آئے اب تو اس تنخواہ پر چپڑاسی بھی نہیں ملتا۔ان کی طبیعت بہت تیز تھی جلد غصہ آجاتا تھا حضرت خلیفہ اول کے سامنے تو غصہ کا اظہار بھی کرنے لگ جاتے تھے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام کے سامنے ہمیشہ مؤدب رہتے۔مجھے اُن کا ایک لطیفہ یاد ہے، یہاں ایک افغان مہاجر تھے جو مسجد میں اذان دیا کرتے تھے اُن کی آواز بھاری تھی ایک روز قاضی صاحب نے اُن کو اپنے پاس محبت سے بٹھا لیا وہ کہتا تھا میں نے سمجھا مجھے کچھ انعام دینے لگے ہیں مگر پاس بٹھانے کے بعد کہا دیکھو جس وقت تم اذان کہتے ہو اُس وقت خدا اور فرشتے لعنت کرتے ہیں۔آج کل بھی ہماری دونوں مسجدوں میں اس قسم کے مؤذن ہیں کہ اُن کو مؤذن نہیں کہہ سکتے۔اس مسجد کے موذن تو اس طرح اذان دیتے ہیں جیسے کوئی بند ٹوکرے میں بیٹھ کر بولتا ہے۔اذان دینا بڑا ثواب کا کام ہے اور بڑے بڑے آدمی اذان دیا کرتے تھے حضرت عمر نے کہا تھا اگر میں خلیفہ نہ ہوتا تو اذان دیا کرتا۔یہاں مولوی عبدالکریم صاحب بھی اذان دیا کرتے تھے۔ہم بھی مؤذن تھے۔ہم چند آدمی بڑے شوق