تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 591 of 862

تذکار مہدی — Page 591

تذکار مهدی ) کارمهدی 591 روایات سید نا محمود ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات بھی ہوئی۔مگر ہمارے لئے مشکل یہ تھی کہ ہم سمجھتے ہی نہ تھے کہ آپ وفات پا جائیں گے۔لوگوں کو اس کا احساس ہوتا ہے۔اس لئے کوئی روپیہ جمع کرتا ہے۔کوئی بیمہ کراتا ہے اور کوئی اور انتظام کرتا ہے مگر ہم تو سمجھتے ہی نہیں تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فوت ہو جائیں گے۔ہم میں سے ہر ایک یہی سمجھتا تھا کہ میں پہلے فوت ہوں گا اور ہر ایک کی خواہش تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کا جنازہ پڑھائیں۔نوجوان احباب یہ درخواستیں کرتے تھے کہ حضور دعا کریں کہ ہم آپ کے ہاتھوں میں فوت ہوں اور آپ جنازہ پڑھائیں۔آپ پر اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور انعامات دیکھ کر ہر شخص یہی خیال کرتا تھا کہ آپ کو زندہ رہنا چاہئے اور قلوب کی اس کیفیت کی وجہ سے نہ ہمیں اس کا خیال تھا اور نہ اس کے لئے کوئی تیاری تھی کہ آپ فوت ہو گئے۔بعض رشتہ داروں نے والدہ صاحبہ کو تحریک کی (ہمارے نانا جان مرحوم نے ایسا مشورہ نہیں دیا مبادہ کوئی یہ خیال کرے) میں یہ تو نہیں کہتا کہ ورغلایا۔کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ وہ نیک نیتی سے ہی کہہ رہے ہوں گے۔مگر انہوں نے تحریک کی کہ آپ مطالبہ کریں کہ جو چندے آتے ہیں وہ چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل ہی آتے ہیں۔اس لئے ان سے ہمارا حصہ مقرر ہونا چاہئے۔میں اس وقت بچہ تھا مگر یہ مشورہ مجھے اتنا برا معلوم ہوا کہ میں نے کمرہ کے باہر ٹہلنا شروع کر دیا۔کہ جو نہی مجھے موقعہ ملے میں والدہ سے اس کے متعلق بات کروں اور جب موقعہ ملا تو میں نے کہا کہ یہ چندہ کیا ہماری جائیداد تھی۔یہ تو خدا تعالیٰ کے دین کے لئے ہیں ان میں سے حصہ لینے کا کسی کو کیا حق ہے۔پھر بعض لوگ ایسے تھے کہ جو یہ مشورہ کر رہے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کے لئے گزارہ مقرر کرنا چاہئے۔چنانچہ ایک دوست نے مجھ سے آکر کہا کہ ہم نے یہ تجویز کی ہے کہ آپ کو گزارہ دیا جائے میں نے کہا کہ ہم اس کے لئے تیار نہیں ہیں۔ہم بندوں کے محتاج کیوں ہوں۔اس وقت ہماری جائیداد بھی پراگندہ حالت میں تھی۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی طرف توجہ نہ کی تھی اور بظاہر گزارہ کی کوئی صورت نہ تھی۔مگر میرے نفس نے یہی کہا کہ جو خدا انتظام کرے گا اسی کو منظور کروں گا۔بندوں کی طرف کبھی توجہ نہ دوں گا۔میرا جواب سن کر اس دوست نے کہا کہ پھر آپ لوگوں کے گزارہ کی کیا صورت ہو گی۔میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء زندہ