تذکار مہدی — Page 592
تذکار مهدی ) 592 روایات سید نا محمود رکھنے کا ہوگا تو وہ خود انتظام کرے گا اور اگر اس نے مارنا ہے تو وہ موت زیادہ اچھی ہے جو اس کے منشاء کے ماتحت ہو۔تو گویا میں نے یہ دونوں صورتیں رد کر دیں۔حصہ والی تجویز تو شرعاً بھی ناجائز تھی۔مگر میں نے دوسری صورت کو بھی منظور نہ کیا یہ ذاتی غیرت تھی۔اب تیسرا پہلو سلسلہ کے لئے غیرت کا تھا اس کے اظہار کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام فرمایا کہ مرزا سلطان احمد کے دل میں مشورہ کی تحریک پیدا کی۔آپ اس وقت غیر احمدی تھے آپ نے مناسب سمجھا کہ بڑے بھائی کی حیثیت میں مجھے مشورہ دیں اور شیخ یعقوب علی صاحب کو میرے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ آپ سلسلہ سے کوئی رقم لینا منظور نہ کریں۔یہ ہماری خاندانی غیرت کا سوال ہے۔میرے نفس نے فوراً کہا کہ گو یہ مشورہ وہی ہے جو میرے دل نے دیا ہے۔مگر اس وقت مشورہ دینے والا ایک ایسامی ایسا شخص ہے جو گو میرا بڑا بھائی ہے مگر ہے غیر احمدی اور مذہب کی روح سے سب سے زیادہ قریبی رشتہ ہم مذہبوں کا ہوتا ہے۔یہ میرے اور سلسلہ کے تعلقات میں کیوں دخل دیں۔چنانچہ اس خیال کے آتے ہی میں نے شیخ صاحب سے کہا کہ ان کا شکریہ ادا کریں اور کہہ دیں کہ میرا اور سلسلہ کا جو تعلق ہے اس کے بارے میں میں خود ہی فیصلہ کرنا پسند کرتا ہوں۔انہیں اس سے تعلق نہیں آخر حضرت خلیفہ اسیج اول نے مجھے بلایا اور کہا کہ ہم آپ لوگوں کو اپنے پاس سے کچھ پیش نہیں کرتے۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام ہے جس کے ماتحت میں نے گزارہ کی تجویز کی ہے اور الہام میں رقم تک مقرر ہے اب سوال انسانوں کا نہ رہا۔بلکہ خدا تعالیٰ کے دین کا آ گیا اس لئے میں نے اس امر کو منظور کر لیا۔جو گزارہ مقرر ہوا وہ ہمارے لئے تو خدا تعالیٰ کے فضل سے کافی تھا۔گو اس زمانہ میں ہمارے بچے بھی اس میں گزارہ نہیں کر سکتے۔مجھے اس وقت ساٹھ روپے ملتے تھے۔جن میں سے میں دس روپیہ ماہوار تو تفخیذ پر خرچ کرتا تھا۔دو بچے تھے۔بیوی تھی اور کو کوئی خاص ضرورت تو نہ تھی۔مگر خاندانی طور طریق کے مطابق ایک کھانا پکانے والی اور ایک خادمہ بچوں کے رکھنے اور اوپر کے کام میں مدد دینے کے لئے میری بیوی نے رکھی ہوئی تھی۔سفر اور بیماری وغیرہ کے اخراجات بھی اسی میں سے تھے پھر مجھے کتابوں کا شوق بچپن سے ہے جس وقت میری کوئی آمد سوائے اس کے کہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کپڑوں کے لئے مجھے دیا کرتے تھے نہ تھی۔تب بھی میں کتب خرید تا رہتا تھا۔بلکہ اس سے پہلے جب کا پیوں کا غذ اور قلم وغیرہ کے لئے مجھے تین روپے ماہوار ملا کرتے تھے۔