تذکار مہدی — Page 16
تذکار مهدی ) 16 روایات سیّد نا محمود سکھ لیکچراروں کو کہنا چاہئے تھا کہ ہمارے دادا صاحب نے مسلمان ہونے کے باوجود سکھوں سے غداری نہیں کی۔مگر کہا یہ گیا کہ وہ گھاس منہ میں لے کر مہاراجہ صاحب کے پاس پہنچے کہ کچھ دیا جائے۔یہ کہنے والے کو معلوم نہیں کہ ہمارے پاس آج تک وہ تحریر موجود ہے جو شاہ فرخ سیر نے ہمارے دادا صاحب کو لکھی ہے۔اور اس میں ان کو عضدالدولہ کا خطاب اور سات ہزار فوج رکھنے کا حق دیا گیا ہے۔اگر ہماری جا گیر مہاراجہ صاحب کی دی ہوئی ہے تو ان سے بہت پہلے یہ مناصب کیونکر حاصل ہو گئے۔فرخ سیر تو اور نگزیب سے قریبی زمانہ میں گزرے ہیں۔پس ایسی باتوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوا کرتا۔سینکڑوں لوگ ابھی تک اس علاقہ میں ایسے موجود ہیں۔جنہوں نے اپنے باپ داداؤں سے سنا ہو گا کہ ہمارا خاندان یہاں ملاں تھا یا حاکم۔تاریخ سے یہ بات ثابت ہے کہ جب ملتان کے صوبہ نے بغاوت کی تو ہمارے تایا صاحب نے ٹوانوں کے ساتھ مل کر اسے فرو کیا تھا اور اسی وقت سے ٹوانوں اور نون خاندان کے ساتھ ہمارے تعلقات چلے آتے ہیں۔پس جہاں تک شرافت کا سوال ہے ہمارے خاندان نے سکھ حکومت کے ساتھ نہایت دیانتداری کا برتاؤ کیا اور اس کی سزا کے طور پر انگریزوں نے ہماری جائیداد ضبط کر لی ور نہ سری گوبندر پور کے پاس اب تک ایک گاؤں موجود ہے جس کا نام ہی مغلاں ہے اور وہاں تک ہماری حکومت کی سرحد تھی اور اس علاقہ کے لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہاں تک ہماری حکومت تھی اور یہ مہاراجہ رنجیت سنگھ صاحب سے پہلے کی بات ہے۔آج اگر گالیاں دی جائیں تو اس سے کچھ نہیں بنتا۔تاریخ بتاتی ہے کہ ہم اس علاقہ کے حاکم تھے اور سکھوں کا قادیان پر حملہ کرنا ہی بتاتا ہے کہ یہاں حکومت تھی۔ہمارے دادا صاحب کپورتھلہ کی ریاست میں چلے گئے۔تو مہاراجہ کپورتھلہ نے ان کو دو گاؤں پیش کیے۔گو انہوں نے لیئے نہیں مگر کیا ایسے ملانوں کو پیش کیے جاتے ہیں؟ اسی احراری ملاں سے پوچھو کہ آج بھی وہاں کسی ملانے کو دو گاؤں پیش کئے جا سکتے ہیں۔عنایت اللہ صاحب خود ملاں ہیں اور قاضی بھی کہلاتے ہیں۔پھر ان کا دعوی ہے کہ ان کا سارے علاقے پر رعب ہے۔وہ خود وہاں چلے جائیں اور دیکھ لیں کہ مہاراجہ کپورتھلہ ان کو دو گاؤں پیش کرتے ہیں۔اگر وہ اس طرح ملانوں کو دو دو گاؤں دینے لگیں تو دو سال میں ان کی ریاست ختم ہو جائے گی۔زیادہ سے زیادہ 3 ،4 سو گاؤں اس ریاست میں ہوں گے اور اگر وہ دو دو گاؤں تقسیم کرنے لگیں۔تو دو سو روز میں ان ریاست ختم ہو جائے۔پس ایسی باتوں سے جو تاریخ اور عقل کے خلاف ہوں۔کچھ فائدہ نہیں۔بات وہ کرنی چاہئے جو تھے