تذکار مہدی — Page 15
تذکار مهدی ) 15 روایات سیّد نا محمود ہے۔انہوں نے ایک معمولی زمیندار کا فرزند ہو کر ایسی عظمندی دکھائی کہ پنجاب میں ایک منظم حکومت قائم کر دی۔پس یہ بالکل غلط ہے کہ ہم ان کی ہتک کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ مہاراجہ صاحب نے یہ گاؤں واپس کیا۔پس جن کو برا کہا گیا ہے وہ طوائف الملو کی کے زمانہ کے سکھ ہیں۔بے شک مہاراجہ صاحب نے یہ گاؤں واپس کیا ہے۔لیکن ہمارے خاندان نے بھی ہمیشہ ان کے خاندان سے وفاداری کی۔جب انگریزوں سے لڑائیاں ہوئیں تو بعض بڑے بڑے سکھ سرداروں نے روپے لے لے کر علاقے انگریزوں کے حوالے کر دیئے اور یہی وجہ ہے کہ آج ان کی جاگیریں موجود ہیں۔یہاں سے پندرہ ہیں میل کے فاصلہ پر سکھوں کا ایک گاؤں بھا گووال ہے وہاں سکھ سردار ہیں۔مگر وہ بھی انگریزوں سے مل گئے تھے۔تو اس وقت بڑے بڑے سکھ خاندانوں نے بھی انگریزوں کا ساتھ دیا اور مہاراجہ کے خاندان سے غداری کی۔مگر ہمارے دادا صاحب نے کہا کہ میں نے اس خاندان کا نمک کھایا ہے۔اس سے غداری نہیں کر سکتا۔کیا وجہ ہے کہ سکھ زمینداروں کی جاگیریں تو قائم ہیں۔مگر ہماری چھین لی گئیں۔اسی غصہ میں انگریزوں نے ہماری جائیداد چھین لی تھی کہ ہمارے دادا صاحب نے سکھوں کے خلاف ان کا ساتھ نہ دیا تھا۔تاریخ سے یہ امر ثابت ہے کہ مہا راجہ صاحب نے سات گاؤں واپس کیے تھے۔پھر وہ کہاں گئے؟ وہ اسی وجہ سے انگریزوں نے ضبط کر لیئے کہ ہمارے دادا صاحب نے ان کا ساتھ نہ دیا تھا۔اور کہا تھا کہ ہم نے مہاراجہ صاحب کی نوکری کی ہے۔ان کے خاندان سے غداری نہیں کر سکتے۔بھا گووال کے ایک اتنی پچاسی سالہ بوڑھے سکھ کپتان نے مجھے سنایا کہ میرے دادا سناتے تھے کہ ان کو خود سکھ حکومت کے وزیر نے بلا کر کہا کہ انگریز طاقتور ہیں ان کے ساتھ صلح کر لو۔خواہ مخواہ اپنے آدمی مت مرواؤ۔مگر ہمارے دادا صاحب نے مہاراجہ صاحب کے خاندان سے بے وفائی نہ کی اور اسی وجہ سے انگریزوں نے ہماری جائیداد ضبط کر لی۔بعد میں جو کچھ ملا مقدمات سے ملا۔مگر کیا ملا قادیان کی کچھ زمین دے دی گئی۔باقی بھینی ہنگل اور کھارا، مالکان اعلیٰ کا قرار دے دیا گیا۔مگر یہ ملکیت اعلیٰ سوائے کاغذ چاٹنے کے کیا ہے۔یہ برائے نام ملکیت ہے جو اشک شوئی کے طور پر دی گئی اور اس کی وجہ یہی ہے کہ ہمارے دادا صاحب نے غداری پسند نہ کی ہاں جب انگریزوں کی حکومت قائم ہو گئی تو پھر ان سے وفاداری کی ہے۔پس یہ تعریف کے قابل بات تھی۔