تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 455 of 862

تذکار مہدی — Page 455

تذکار مهدی ) 455 روایات سید نا محمود اگر کوئی ایک لفظ بھی کہے تو آپ مباہلہ کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اور کتابیں لکھ دیتے ہیں مگر ہمیں یہ کہتے ہیں کہ ہمارے پیر کو اگر کوئی گالیاں دے تو چپ رہیں۔بظاہر یہ بے ادبی تھی مگر اس سے ان کے عشق کا پتہ ضرور لگ سکتا ہے۔جب فیصلہ سنانے کا وقت آیا تو لوگوں کو یقین تھا کہ مجسٹریٹ سزا ضرور دے دے گا اور بعید نہیں کہ قید کی ہی سزا دے۔ادھر مخلصین کے دل میں ایک لمحہ کے لئے بھی یہ خیال نہیں آ سکتا تھا کہ آپ کو گرفتار کر لیا جائے گا۔اس دن عدالت کی طرف سے بھی زیادہ احتیاط کی گئی تھی۔پہرہ بھی زیادہ تھا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اندر تشریف لے گئے تو دوستوں نے پروفیسر صاحب کو باہر روک لیا کیونکہ ان کی طبیعت تیز تھی۔مگر انہوں نے ایک بڑا سا پتھر ایک درخت کے پیچھے چھپا رکھا تھا اور جس طرح ایک دیوانہ چیخ مارتا ہے۔زار زار روتے ہوئے دفعہ درخت کی طرف بھاگے اور وہاں سے پتھر اٹھا کر بے تحاشہ عدالت کی طرف دوڑے اور اگر جماعت کے لوگ راستہ میں نہ روکتے تو وہ مجسٹریٹ کا سر پھوڑ دیتے۔انہوں نے خیال کر لیا کہ مجسٹریٹ ضرور سزا دے دے گا اور اسی خیال کے اثر کے ماتحت وہ اسے مارنے کے لئے آمادہ ہو گئے۔خطبات محمود جلد 15 صفحہ 67-66 ) فلاسفر صاحب ہماری جماعت میں ایک شخص ہوا کرتا تھا۔جسے لوگ فلاسفر فلاسفر کہتے تھے۔اب وہ فوت ہو چکا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائے۔اسے بات بات میں لطیفے سوجھ جاتے تھے۔جن میں سے بعض بڑے اچھے ہوا کرتے تھے۔فلاسفر اسے اسی لئے کہتے تھے کہ وہ ہر بات میں ایک نیا نکتہ نکال لیتا تھا۔ایک دفعہ روزوں کا ذکر چل پڑا کہنے لگا مولویوں نے یہ محض ڈھونگ رچایا ہوا ہے کہ سحری ذرا دیر سے کھاؤ تو روزہ نہیں ہوتا۔بھلا جس نے بارہ گھنٹے فاقہ کیا اس نے پانچ منٹ بعد سحری کھالی تو کیا حرج ہوا۔مولوی جھٹ سے فتوی دیتے ہیں کہ اس کا روزہ ضائع ہو گیا۔غرض اس نے اس پر خوب بحث کی۔صبح وہ گھبرایا ہوا حضرت خلیفہ اول کے پاس آیا۔زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تھا۔مگر چونکہ حضرت خلیفہ اول ہی درس وغیرہ دیا کرتے تھے۔اس لئے آپ کی مجلس میں بھی لوگ کثرت سے آیا جایا کرتے تھے۔آتے ہی کہنے لگا کہ آج رات تو مجھے بڑی ڈانٹ پڑی ہے۔آپ نے فرمایا کیا ہوا؟ کہنے لگا رات کو میں یہ بحث کرتا رہا کہ مولویوں نے ڈھونگ رچایا ہوا ہے کہ روزہ دار ذرا سحری دیر سے کھائے تو اس کا روزہ نہیں ہوتا۔