تذکار مہدی — Page 454
تذکار مهدی ) 454 روایات سید نا محمود ہوتیں۔مثلاً وہ نماز میں ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے جسم پر اپنا ہاتھ پھیر نے کی کوشش کرتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کی اس حالت کو دیکھ کر بعض آدمی مقرر کئے ہوئے تھے تا کہ جن ایام میں انہیں دورہ ہو وہ خیال رکھیں کہ کہیں وہ آپ کے پیچھے آ کر نہ بیٹھ جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی عادت تھی کہ جب آپ گفتگو فرماتے یا لیکچر دیتے تو اپنے ہاتھ کو رانوں کی طرف اس طرح لاتے جس طرح کوئی آہستہ سے ہاتھ مارتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب اس طرح ہاتھ ہلاتے تو مولوی یارمحمد صاحب محبت کے جوش میں فوراً کود کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس پہنچ جاتے اور جب کسی نے پوچھنا کہ مولوی صاحب یہ کیا تو وہ کہتے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مجھے اشارہ سے بلایا تھا۔تو جہاں محبت ہوتی ہے وہاں یونہی اشارے بنا لئے جاتے ہیں۔کجا یہ کہ اللہ تعالیٰ روزانہ بلائے اور بندہ کہے کہ ہم جمعتہ الوداع کے دن قضاء عمری پڑھ لیں گے اور اس طرح خدا تعالیٰ کی زیارت حاصل ہو جائے گی۔پس یہ گو جمعۃ الوداع تو نہیں مگر مسلمان کا ہر جمعہ اپنے ساتھ برکات رکھتا ہے۔(خطبات محمود جلد 15 صفحہ 532-531) پروفیسر صاحب کا جواب مجھے وہ نظارہ یاد ہے جس دن فیصلہ سنایا جانا تھا۔ہماری جماعت میں ایک دوست تھے جن کو پروفیسر کہا جاتا تھا۔پہلے وہ تاش وغیرہ کے کھیل اعلیٰ پیمانہ پر کیا کرتے تھے۔اچھے ہوشیار آدمی تھے اور چار پانچ سوروپیہ ماہوار کما لیتے تھے مگر احمدی ہونے پر انہوں نے یہ کام چھوڑ دیا اور معمولی دکان کر لی تھی۔انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عشق تھا اور غربت کو اخلاص سے برداشت کرتے تھے ان کے اخلاص کی ایک مثال میں سناتا ہوں۔انہوں نے لاہور میں جا کر کوئی دکان کی۔جو گاہک آتے انہیں تبلیغ کرتے ہوئے لڑ پڑتے۔خواجہ صاحب نے آکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے شکایت کی۔آپ نے محبت سے انہیں کہا کہ پروفیسر صاحب! ہمارے لئے یہی حکم ہے کہ نرمی اختیار کرو، خدا تعالیٰ کی یہی تعلیم ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سمجھاتے جاتے تھے اور پروفیسر صاحب کا چہرہ سرخ ہوتا جاتا تھا۔ادب کی وجہ سے وہ بیچ میں تو نہ بولے مگر سب کچھ سن کر یہ کہنے لگے کہ میں اس نصیحت کو نہیں مان سکتا آپ کے پیر ( یعنی آنحضرت ﷺ ) کو