تذکار مہدی — Page 441
تذکار مهدی ) 441 روایات سید نا محمودی حضرت سیٹھ عبدالرحمن مدراسی کی مالی قربانیاں دوسرا جنازہ میں ایک ایسے شخص کا پڑھوں گا۔جو ایک ایسی جگہ فوت ہوا ہے کہ وہاں بھی بہت قلیل جماعت ہے اور فوت ہونے والا شخص ایسے خاندان سے تعلق رکھتا ہے جو اللہ کے فضل سے سارے کا سارا احمدی ہے۔سیٹھ عبدالرحمن اللہ رکھا صاحب کو ہماری جماعت کے اکثر دوست جانتے ہیں۔ان کے بھائی سیٹھ علی محمد صاحب ہیں ان کے بھتیجے سیٹھ غلام حسین فوت ہو گئے ہیں۔سیٹھ عبدالرحمان اللہ رکھا کی اپنی تو کوئی اولاد نہیں ایک لڑکا تھا چار پانچ سال ہوئے وہ بھی فوت ہو چکا ہے۔اب یہ ان کے بھائی کا لڑکا ہے۔جو جوانی کے عالم میں فوت ہو گیا ہے۔سیٹھ عبدالرحمان اللہ رکھا وہ شخص ہیں کہ جن کو حضرت صاحب کی کتابیں پڑھنے والے خوب جانتے ہیں۔حضرت صاحب کی کتابوں میں ان کا اکثر ذکر آتا ہے۔مالدار لوگ عام طور پر بزدل ہوتے ہیں۔لیکن انہوں نے حضرت صاحب کو قبول کیا ان پر مشکلات بھی آئیں۔تکلیفیں بھی ان کو ہوئیں۔ان پر ابتلاء بھی آئے لیکن باوجود اس کے ان کے اخلاص کی یہ حالت تھی کہ اگر ان کے اپنے پاس کچھ نہ ہوتا تو بھی وہ حضرت صاحب کو قرض لے کر روپیہ بھیجتے رہتے۔ایک دفعہ ان کو کاروبار میں سخت نقصان پہنچا اور سب کچھ نیلام ہو گیا۔انہوں نے حضرت صاحب کی خدمت میں دعا کے لئے لکھا۔تھوڑے عرصے کے بعد تین سو روپیہ انہوں نے حضرت صاحب کو بھیجا۔حضرت صاحب نے فرمایا آپ کی تو یہ حالت تھی آپ نے روپیہ کیسا بھیجا۔جس کے جواب میں انہوں نے عرض کی کہ میں نے کچھ رو پیدا اپنی ضروریات کے لئے قرض لیا تھا۔اس میں خدا کا بھی حق تھا سو میں نے وہ ادا کیا۔ان کی محبت اور اخلاص کا اس سے بھی پتہ لگتا ہے کہ حضرت صاحب کا یہ جو الہام مشہور ہے۔قادر ہے وہ بارگا جو ٹوٹے کام بنا دے بنے بنائے توڑ دے کوئی اس کا بھید نہ پاوے یہ ان کے لئے ہی ہے ان کی اپنی اولاد کوئی نہیں۔ان کے بھتیجے سیٹھ غلام حسین جن کا میں جمعہ کی نماز کے بعد جنازہ پڑھاؤں گا سب احباب اس میں شامل ہوں۔خطبات محمود جلد 9 صفحہ 227-226)