تذکار مہدی — Page 335
تذکار مهدی ) 335 روایات سید نامحمود کرتے ہیں مجھے آج تک اپنی اس غفلت پر افسوس ہے میرے ساتھ ایک اور صاحب بیٹھے تھے ٹھیک یاد نہیں کون تھے غالبا اکبر شاہ خان صاحب نجیب آبادی یا کوئی اور تھے جب آریہ لیکچرار نے سخت کلامی شروع کی تو میں اُٹھا اور میں نے کہا میں یہ نہیں سن سکتا اور جاتا ہوں مگر اُس شخص نے جو میرے پاس بیٹھا تھا کہا کہ حضرت مولوی صاحب اور دیگر علماء سلسلہ بیٹھے ہیں اگر اُٹھنا مناسب ہوتا تو وہ نہ اُٹھتے۔میں نے کہا اُن کے دل میں جو ہو گا وہ جانتے ہوں گے مگر میں نہیں بیٹھ سکتا مگر اُس نے کہا راستے سب بند ہیں دروازوں میں لوگ کھڑے ہیں آپ درمیان سے اُٹھ کر گئے تو شور ہوگا اور فساد پیدا ہو گا چپکے بیٹھے رہو۔میں اس کی باتوں میں آ گیا اور بیٹھا رہا مگر مجھے آج تک افسوس ہے کہ جب ایک نیک تحریک میرے دل میں اللہ تعالیٰ نے پیدا کی تھی تو میں کیوں نہ اُٹھ آیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب یہ سنا کہ جلسہ میں رسول کریم ﷺ کو گالیاں دی گئی ہیں تو آپ سخت ناراض ہوئے اور سب سے زیادہ ناراض آپ حضرت خلیفتہ اسیح الاوّل پر ہوئے بار بار فرماتے کہ آپ سے مجھے یہ امید نہ تھی کہ رسول کریم ﷺ کو اس طرح گالیاں دی جاتیں اور آپ چکے بیٹھے سنتے رہتے آپ کو چاہئے تھا کہ پروٹسٹ کرتے اور اسی وقت اُٹھ کر آ جاتے ، آپ کی غیرت نے یہ کس طرح گوارا کیا کہ آپ ایک منٹ بھی وہاں بیٹھیں۔غرض آپ اس قدر ناراض ہوئے کہ معلوم ہوتا تھا شاید جماعت سے خارج کر دیں مولوی محمد احسن صاحب جلسہ میں نہیں گئے تھے مجھے یاد ہے چلتے چلتے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی باتوں کی تصدیق بھی کرتے جاتے تھے اور پھر ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے جاتے تھے کہ ذہول ہو گیا ذہول کا لفظ میں نے اُن سے ہی اُس وقت پہلی دفعہ سنا اور وہ یہ بات بار بار اس طرح کہتے تھے کہ جس سے ہنسی آ جائے۔افسوس کا اظہار بھی کرتے جاتے تھے اور پھر ساتھ ہی یہ بھی کہتے جاتے کہ ذہول ہو گیا۔خیر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تھوڑی دیر بعد معاف کر دیا تو ہمارے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا فیصلہ موجود ہے۔میں جانتا ہوں کہ ڈائرسٹ (DIARIST) کے لئے ضروری ہے کہ جائے اور نوٹ لے کر اپنی جماعت کو اطلاع دے۔پھر اس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ ان گالیوں کو ہم بعد میں کتاب کی صورت میں شائع کر دیں کیونکہ یہ بھی سلسلہ کی تائید کا ایک حصہ ہے لیکن اُس وقت اُس مجلس میں بیٹھنا، اس مجلس کے اعزاز کو بڑھانا ہے ہم انہیں کتابوں میں لکھنے پر مجبور ہیں کیونکہ آئندہ نسلوں کو ان باتوں سے آگاہ کرنا ضروری ہے مگر مجلس میں جا کر بیٹھنے سے نہ آئندہ نسلوں کو کوئی فائدہ ہے اور نہ موجودہ زمانہ