تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 862

تذکار مہدی — Page 304

تذکار مهدی ) 304 روایات سید نا محمود بے تاب ہو جائے اور یہ خواہش پیدا ہو کہ کاش! میرے پاس بھی ایسی ہی صدری ہولیکن الہام الہی کا ذکر سُن کر اللہ تعالیٰ کے قرب اور محبت کی باتیں سن کر ہمارے دلوں میں یہ خواہش پیدا نہ ہو کہ ہمیں بھی الہام ہوں، ہمارے لئے بھی خدا تعالیٰ اپنے نشانات دکھایا کرے اور ہمیں بھی اپنی محبت سے نوازے۔اس کی بڑی وجہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ ہے کہ ہمارے سلسلہ کے علماء اور ہمارا سمجھدار طبقہ نو جوانوں کے سامنے اس رنگ میں ان باتوں کو پیش نہیں کرتا کہ یہ امور سهل الحصول اور ممکن الحصول ہیں۔اوّل تو انہیں پتہ نہیں ہوتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ کا کیا تعلق تھا اور اگر پتہ بھی ہو تو وہ خیال کرتے ہیں کہ یہ باتیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مخصوص تھیں حالانکہ یہ صحیح نہیں۔پس اگر یہ تڑپ ہماری جماعت میں عام ہو جائے تو ایک بہت بڑا طبقہ ہماری جماعت میں ایسا پیدا ہو سکتا ہے۔جو گناہ کو بہت حد تک مٹا دے گا۔ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ گناہ بالکل مٹ جائے گا کیونکہ یہ بہت مشکل بات ہے مگر بہت حد تک گناہ پر غالب آیا جا سکتا ہے۔یا اکثر حصہ جماعت میں ایسے لوگوں کا پیدا ہوسکتا ہے جو گناہوں پر غالب آ جائے۔خطبات محمود جلد 17 صفحہ 453-452) مخلوق کی جسمانی خدمت بجا لاؤ مجھے ایک نظارہ بھی نہیں بھولتا میں اُس وقت چھوٹا سا تھا، سولہ سترہ سال کی عمر تھی کہ اُس وقت ہماری ایک چھوٹی ہمشیرہ جو چند ماہ کی تھی فوت ہوگئی اور اُس کو دفن کرنے کیلئے اسی مقبرہ میں لے گئے جس کے متعلق احرار کہتے ہیں کہ احمدی اس میں دفن نہیں ہو سکتے۔جنازہ کے بعد نعش حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ہاتھوں پر اُٹھالی۔اُس وقت مرزا اسماعیل بیگ صاحب مرحوم جو یہاں دودھ کی دکان کیا کرتے تھے آگے بڑھے اور کہنے لگے حضور الغش مجھے دے دیجئے میں اُٹھا لیتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مڑ کر اُن کی طرف دیکھا اور فرمایا یہ میری بیٹی ہے۔یعنی بیٹی ہونے کے لحاظ سے اس کی ایک جسمانی خدمت جو اس کی آخری خدمت ہے یہی ہوسکتی ہے کہ میں خود اس کو اُٹھا کر لے جاؤں۔تو صفت رَبِّ الْعَلَمِینَ کے مظہر بنا چاہتے ہو تو تمہارے لئے ضروری ہے کہ مخلوق کی جسمانی خدمات بجالاؤ۔اگر تم خدمت دین میں اپنی ساری جائداد دے دیتے ہو، اپنی کل آمد اسلام کی اشاعت پر خرچ کر دیتے ہو تو تم ملکیت کے مظہر تو بن جاؤ گے مگر رَبّ العلمین کے مظہر نہیں بنو گے کیونکہ رَبِّ الْعَلَمِینَ وو 66