تذکار مہدی — Page 303
6303 تذکار مهدی ) روایات سید نامحمود کے پورا ہونے پر ہمیں خوشی بھی ہوگی۔خوشی کا یہ مطلب نہیں کہ ہم انہیں غیر سمجھتے ہیں ہم تو انہیں اپنا ہی سمجھتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کو ان سے بھی زیادہ اپنا سمجھتے ہیں اور یہ ہمارے لئے ناممکن ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے کسی نشان کو چھپائیں۔پس ہمارا فرض ہے کہ ہم دنیا پر اپنی دونوں خوبیوں کو ظاہر کر دیں ایک طرف خدا تعالیٰ کے اس عظیم الشان قہری نشان کے ذکر کو ہم دنیا میں پھیلائیں اور لوگوں کو بتائیں کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے لئے ظہور پذیر ہوا اور دوسری طرف مصیبت زدگان اور مجروحین کی امداد کریں تا دنیا سمجھے کہ ہم جہاں خدا تعالیٰ کا نشان ظاہر ہونے کے بعد اس کی اشاعت میں کسی مصیبت اور ملامت کی پرواہ نہیں کرتے وہاں ہم سے زیادہ ان کا خیر خواہ بھی کوئی نہیں۔اگر ہم اپنی ان دونوں خوبیوں کو ظاہر کریں گے تو اس وقت خدا کی بھی دونوں قدرتیں ہمارے لئے ظاہر ہوں گی وہ قدرت بھی جو آسمان سے اترتی ہے اور وہ قدرت بھی جو زمین سے ظاہر ہوتی ہے۔( خطبات محمود جلد 16 صفحہ 339-338) انسان میں نقل کرنے کی خواہش ہوتی ہے مجھے یاد ہے بچپن میں ہمارا چھوٹا بھائی مبارک احمد سخت بیمار تھا اُس نے ایک کپڑے کی خواہش کی ( یہ اس کی مرض موت تھی )۔کلکتہ کی کوئی فرم تھی اُس سے وہ کپڑا مل سکتا تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وہ کپڑا اُس کیلئے منگوا دیا مگر اس کے بعد مبارک احمد شاید فوت ہو گیا یا اور زیادہ بیمار ہو گیا کہ اسے اس کپڑے کی خواہش نہ رہی۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وہ کپڑا ہم تینوں بھائیوں میں بانٹ دیا۔میں نے اُس کی صدری بنوالی جب میں صدری پہن کر باہر نکلا تو ایک دوست مجھے دیکھتے ہی کہنے لگے آپ یہیں ٹھہریں مجھے ایک کام ہے میں ابھی آتا ہوں۔یہ کہہ کر وہ چلے گئے اور تھوڑی دیر کے بعد آ گئے۔میں نے پوچھا کہاں گئے تھے؟ کہنے لگے ایک ضروری کام تھا۔دو تین دن کے بعد وہ آئے تو انہوں نے بھی ایک صدری پہنی ہوئی تھی۔کہنے لگے جب میں نے آپ کو صدری پہنے دیکھا تو میں نے کہا میں بھی اب اس قسم کی دھاری دار صدری بنوا کر رہوں گا۔چنانچہ اُسی وقت میں گیا اور بازار سے کپڑا خرید کر صدری سلوالی۔خیر اس میں بھی ایک لطیفہ تھا اور وہ یہ کہ ہمارا کپڑاٹسری تھا اور اس دوست کا کپڑا گبرون یا لدھیانہ کی قسم کا تھا لیکن اس سے اس خواہش کا پتہ چلتا ہے جو دوسروں کی اچھی چیز دیکھ کر انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے۔اب کیا یہ لطیفہ نہیں کہ کسی کی دھاری دار صدری دیکھ کر تو دل