تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 299 of 862

تذکار مہدی — Page 299

تذکار مهدی ) 299 روایات سید نا محمودی لائے۔میں نے وہ حضور کے سامنے پیش کر دیئے۔آپ نے انہیں دیکھا اور فرمایا کہہ دو جزاک اللہ۔اور پھر ان میں سے کوئی چیز جو غالباً کیلا تھا۔اٹھایا اور میں چونکہ دوائی وغیرہ پلایا کرتا تھا۔اس لئے یا شائد مجھے سبق دینے کے لئے فرمایا کہ یہ کھانسی میں کیسا ہوتا ہے۔میں نے کہا اچھا تو نہیں ہوتا مگر آپ مسکرا پڑے اور چھیل کر کھانے لگے۔میں نے پھر عرض کیا کہ کھانسی بہت سخت ہے اور یہ چیز کھانسی میں اچھی نہیں۔آپ پھر مسکرائے اور کھاتے رہے۔میں نے اپنی نادانی سے پھر اصرار کیا کہ نہیں کھانا چاہئے اس پر آپ پھر مسکرائے اور فرمایا مجھے ابھی الہام ہوا ہے کہ کھانسی دور ہو گئی۔چنانچہ کھانسی اسی وقت سے جاتی رہی۔حالانکہ اس وقت نہ کوئی دوا استعمال کی اور نہ پر ہیز کیا بلکہ بد پرہیزی کی اور کھانسی بھی دور ہوگئی۔اگر چہ اس سے پہلے ایک مہینہ علاج ہوتا رہا تھا اور کھانسی دور نہ ہوئی تھی۔تو یہ الہی تصرف ہے۔یوں تو بد پر ہیزی سے بیماریاں بھی ہوتی ہیں اور علاج سے صحت بھی ہوتی ہے۔مگر جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے دخل بھی دے دیتا ہے۔اور دعا کا ہتھیار اسی لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو سکھایا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور جا کر کہے کہ میں آزادی نہیں چاہتا۔میں اپنے حالات سے تنگ آ گیا ہوں آپ مہربانی کر کے میرے معاملات میں دخل دیں اور اللہ تعالیٰ بھی دیکھتا ہے کہ بندہ متوکل ہو گیا ہے اور چاہتا ہے کہ میں اس کے معاملات میں دخل دوں تو وہ دیتا ہے۔پس گو اللہ تعالیٰ نے انسان کو آزادی دی ہے۔مگر وہ دخل بھی دیتا ہے انسان کو اللہ تعالیٰ نے انگلیاں دی ہیں۔منہ دیا ہے اس کے سامنے کھانا آتا ہے۔وہ اس کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے۔لقمہ اٹھاتا ہے اور منہ میں ڈالتا ہے۔فرشتے کہیں بھی اس کا ہاتھ نہیں روکتے۔اندرونی ایمان ظاہر ہو گیا الفضل جلد 30 نمبر 164 مورخہ 17 جولائی 1942 ء صفحہ 3) میری زندگی میں بھی مجھ سے ایک ایسی ہی کمزوری سرزد ہوئی ہے مگر مجھے اپنے تمام اعمال سے زیادہ اس کمزوری پر خوشی ہوا کرتی ہے۔وہ بیوقوفی کی بات تھی خالص پاگل پن تھا مگر مجھے جتنا اپنے اُس پاگل پن پر ناز ہے اتنا ناز مجھے اور کسی کام پر نہیں۔