تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 862

تذکار مہدی — Page 283

تذکار مهدی ) 283 روایات سید نامحمود کے راستہ میں ایک بڑا بھاری پتھر پڑا تھا جس کو اٹھا کر میں دور پھینک رہا ہوں، دنیا تاریکی کے گڑھے میں گر رہی تھی مگر میں اس کو نور کے میدان کی طرف لئے جارہا ہوں۔آپ جس وقت یہ تقریر کر رہے ہوتے تھے آپ کی آواز میں ایک خاص جوش نظر آ تا تھا اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تخت پر مسیح بیٹھ گئے ہیں جس نے ان کی عزت اور آبرو چھین لی ہے اور آپ اُس سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تخت واپس لینا چاہتے ہیں۔ملنے والے کے حالات اور اندرونہ کا علم ہو جانا انوار العلوم جلد 19 صفحہ 92 تا 95) جب انسان ایسے مقام پر کھڑا ہو جائے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی خود بخو دراہنمائی ہوتی چلی جاتی ہے اور اس کو ایسی مخفی ہدایت ملتی ہے۔جسے الہام بھی نہیں کہہ سکتے اور جس کے متعلق ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ الہام سے جُدا امر ہے۔الہام تو ہم اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ وہ لفظی الہام نہیں ہوتا اور عدم الہام ہم اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ وہ عملی الہام ہوتا ہے اور انسانی قلب پر اللہ تعالیٰ کا نور نازل ہو کر بتا دیتا ہے کہ معاملہ یوں ہے۔حالانکہ لفظوں میں یہ بات نہیں بتائی جاتی۔بعض دفعہ جب اس سے بھی واضح رنگ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی بات بتائی جاتی ہے۔تو اسے کشف کہہ دیتے ہیں۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ بہت سے آدمی جب میرے سامنے آتے ہیں۔تو ان کے اندر سے مجھے ایسی شعاعیں نکلتی معلوم دیتی ہیں جن سے مجھے پتہ لگ جاتا ہے کہ ان کے اندر یہ یہ عیب ہے۔یا یہ یہ خوبی ہے مگر یہ اجازت نہیں ہوتی کہ انہیں اس عیب سے مطلع کیا جائے۔میں نے اپنے طور پر بھی دیکھا۔کہ بعض دفعہ جب کوئی شخص مجھ سے ملتا ہے۔تو اس شخص کے قلب میں سے ایسی شعائیں نکلتی دکھائی دیتی ہیں۔جن سے صاف طور پر اس کا اندرونہ کھل جاتا ہے اور معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کے اندر کوئی کپٹ ہے یا غصہ ہے یا محبت ہے۔پس ایسا معاملہ میرے ساتھ بھی کئی دفعہ ہوا ہے۔گو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ اکثر ایسا ہوتا تھا اور میرے ساتھ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے۔لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کی یہی سنت ہے کہ جب تک انسان اپنی فطرت کو آپ ظاہر نہیں کر دیتا۔وہ اسے مجرم قرار نہیں دیتا۔اس لئے اس سنت کے ماتحت انبیاء اور ان کے اظلال کا بھی یہی طریق ہے کہ وہ اس